Friday, June 12, 2026
 

چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس کا اعلان

 



وفاقی حکومت نے چھوٹے دکان داروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے فکس ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیلی کی ہے اور پاکستان بھر کے چھوٹے دکان داروں اور ان کے نمائندوں سے مشاورت اور ان کے مطالبے پر منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں دکان داروں کے حقیقی خدشات کو مقدم رکھا گیا ہے۔ بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 99بی کے تحت چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے اور اس میں وہ دکان دار آسکتے ہیں، جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت نے چھوٹے دکان داروں کے لیے بنائے گئے اس نظام کے تحت سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، اس ٹیکس میں وہ اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے مگر گوشوارہ جمع کراتے وقت انہیں کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے اور معمول کا کوئی آڈٹ نہیں ہوگا۔ مزید بتایا گیا کہ چھوٹے دکان داروں کو خریداری پر ودہولڈنگ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور انہیں پی او ایس مشین رکھنے سے بھی استثنیٰ ہوگا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جو دکان دار فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرے گا اس وک سبز رنگ کی ایک تختی دی جائے گی، جس پر ایک تصدیقی کیو آر کوڈ چسپاں ہوگا اور یہ ان دکانوں پر آویزاں ہوگی، اس تختی کی موجودگی میں ایف بی آر اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دکان داروں پر ٹیکس کے نظام میں تجویز دی گئی ہے کہ اس اسکیم کے تحت ایک سادہ اور ایک صفحے کا ٹیکس گوشوارہ ہوگا جو اردو کے علاوہ تمام بڑی مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل