Loading
کراچی: چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بزنس مین گروپ نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کو عوام کے لیے غیرسود مند جبکہ تجارت وصنعت کے لیے ففٹی ففٹی بجٹ قرار دیتے ہوئے بجٹ میں کراچی کو نظرانداز کیے جانے کا شکوہ کرڈالا ہے۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں جاوید بلوانی ودیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں ایکسپورٹرز کے ساتھ کراچی کے لیے بھی کچھ نہیں ہے، جب ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی تو ڈالر کہاں سے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں روزگار بڑھانے کے اقدامات بھی نظر نہیں آئے، بجٹ میں کے فور منصوبے کے لیے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے یہ منصوبہ ایک دو سال مزید تاخیر کا شکار ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ محصولات کا ہدف 15ہزار ارب روپے کردیا گیا ہے جسے کسطرح پورا کیا جائے گا، بجٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے حکومت سارا بوجھ ٹیکس ادا کرنے والے پر ڈال رہی ہے، ایف بی آر کا ماڈل کیا ہوگا بجٹ میں واضح نہیں کیا گیا، حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا آئی ایم ایف سے جان چھڑانا ہوگی۔
تاجر رہنما نے کہا کہ بجٹ میں برآمدات سیکٹر کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انرجی سیکٹر کی بات ضرور کی گئی لیکن اسکی لاگت میں کمی کی کوئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انرجی سیکٹر کا 47فیصد لائن لاسز بوجھ صنعتوں پر ڈالا گیا اس کو بجٹ میں کم نہیں کیا گیا۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف دیا اس عمل کو سراہتے ہیں۔کنسٹرکشن انڈسٹری کو مراعات دیں اس عمل کو سپورٹ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ مین ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایف بی آر کا سالانہ ہدف صنعتوں کی مدد سے پورا ہوگا مگر کوئی مثبت اعلان نہیں ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی بجٹ ضرور ہے لیکن اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
کراچی چیمبر کے قائم مقام صدر محمد رضا نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس کا خاتمہ اچھا اقدام ہے تاہم برآمدات بڑھانے کا کوئی اقدام نظر نہیں آرہا ہے۔ کراچی چیمبر کے سابق صدر ادریس میمن نے کہا کہ تاجربرادری کا مطالبہ تھا کہ انڈسٹریل اور کمرشل امپورٹس میں فرق کو ختم کیا جائے۔ ایکسپورٹرز نے فکسڈ ٹیکس کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تھا جسے بحال نہیں کیا گیا۔
سابق نائب صدر ابراہیم کسمبی نے کہا کہ فنانس بل سامنے آئے گا تو اصل بجٹ بجی واضح ہوسکے گا۔ سائیٹ ایسوسی ایشن کے سابق چئیرمین عبدالرشید، کراچی چیمبر کے سابق نائب صدر شاہد اسماعیل، سابق صدر ادریس میمن نے بھی نئے وفاقی بجٹ کو ملا جلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کراچی کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ کاروباری لاگت میں کمی، برآمدات کے فروغ اور روزگار بڑھانے کے لیے اقدامات بھی بجٹ میں نظر نہیں آئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل