Loading
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی حالات کے پیش نظر شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے جائزے میں ملکی معاشی اشاریوں، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی قوی امیدوں کے باوجود محتاط طرز عمل اختیار کرنا ضروری سمجھا گیا، کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ افراط زر پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق افراط زر پر خام تیل کی قیمتوں کا دباؤ تاحال برقرار ہے، جس کے باعث مہنگائی کے حوالے سے خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزہ 27 اپریل کو ہوا تھا، جس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد کردی گئی تھی۔ اس وقت مہنگائی کے ممکنہ دباؤ اور بیرونی عوامل کو اس اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
آج کا مانیٹری پالیسی جائزہ مالی سال 2025-26 کا آخری جائزہ تھا، جس پر کاروباری، مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں کی گہری نظر تھی۔
کمیٹی کے تازہ فیصلے کے بعد آئندہ ڈیڑھ ماہ تک پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گا، جبکہ مستقبل کے فیصلے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل