Tuesday, June 16, 2026
 

دل کی دو خطرناک بیماریاں، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیل، احتیاط لازم ہے

 



پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض تیزی سے عام ہوتے جا رہے ہیں، اور اب یہ مسئلہ صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہا۔ طبی ماہرین کے مطابق 30 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں دل کی بیماریوں کے کیسز میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ خواتین بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتا ہوا طرزِ زندگی، مسلسل ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش غذائی عادات اور ہارمونز میں تبدیلیاں خواتین میں دل کے امراض کے امکانات بڑھا رہی ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ خواتین میں دل کی بیماریوں کی علامات اکثر مردوں سے مختلف ہوتی ہیں، جس کے باعث بہت سی خواتین انہیں عام تھکن یا جسمانی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیل ایک جیسی بیماریاں نہیں ہیں، حالانکہ عام طور پر لوگ انہیں ایک ہی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو جائے، جس کے نتیجے میں دل کے پٹھوں کو خون اور آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور دل کے ٹشوز نقصان اٹھانے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس ہارٹ فیل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل بتدریج کمزور ہو جاتا ہے اور جسم کی ضروریات کے مطابق خون پمپ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہ عموماً ایک طویل المدتی بیماری ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، تاہم مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بعض شدید نوعیت کے ہارٹ اٹیک بعد ازاں ہارٹ فیل کا باعث بن سکتے ہیں۔ خواتین میں دل کے دورے کی علامات ہمیشہ واضح نہیں ہوتیں۔ سینے میں دباؤ، جکڑن، بھاری پن یا درد جیسی علامات چند منٹ کے لیے ظاہر ہو کر دوبارہ بھی واپس آ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ گردن، جبڑے، کندھوں، بازوؤں، کمر یا پیٹ میں درد بھی دل کے دورے کی نشانی ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سانس پھولنا، ٹھنڈے پسینے آنا، متلی، چکر محسوس ہونا، غیر معمولی تھکن، کمزوری اور بے چینی جیسی علامات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض خواتین کو ہارٹ اٹیک کے دوران کمر کے اوپری حصے میں شدید دباؤ یا جکڑن محسوس ہوتی ہے، جیسے جسم کو مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہو۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیشتر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے، بشرطیکہ صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے۔ دل کی صحت کا باقاعدگی سے معائنہ، تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، متوازن غذا اور روزمرہ ورزش اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ بھرپور ورزش دل کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے ساتھ خوراک میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات، گری دار میوے اور صحت بخش پروٹین شامل کرنا چاہیے، جبکہ پراسیسڈ غذاؤں، زیادہ نمک اور اضافی چینی کے استعمال سے گریز کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ خواتین بالخصوص دل سے متعلق ابتدائی علامات کو معمولی نہ سمجھیں اور کسی بھی غیر معمولی کیفیت کی صورت میں فوری طبی مشورہ حاصل کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج کئی سنگین پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل