Loading
فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا میں موضوعِ بحث بن گئی، جہاں متعدد صارفین نے دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلے اور نسبتاً سرد رویے کی نشاندہی کی۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 16 ماہ، یعنی 489 دن بعد دونوں رہنما ایک بار پھر آمنے سامنے آئے۔ تاہم اس ملاقات میں وہ گرمجوشی دکھائی نہیں دی جس کا ماضی میں اکثر مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے موقع پر مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی، لیکن ماضی کے برعکس ایک دوسرے کو گلے لگانے یا غیر معمولی قربت کا اظہار نہیں کیا۔
हँस-हँस के पेट में दर्द हो गया ???????????? pic.twitter.com/qq9HrCYx6Q
— Dr. Ragini Nayak (@NayakRagini) June 16, 2026
بھارتی میڈیا نے بھی اس ملاقات کے انداز پر تبصرے کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران میٹنگ ہال میں دونوں رہنماؤں کے درمیان رسمی گفتگو ہوئی، تاہم باڈی لینگویج اور مجموعی ماحول کو دیکھتے ہوئے مبصرین نے اسے نسبتاً سرد ملاقات قرار دیا۔
بعد ازاں جب جی سیون اجلاس میں شریک عالمی رہنما گروپ فوٹو کے لیے ہال سے باہر آئے تو اس موقع پر بھی نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان نمایاں فاصلہ دیکھا گیا۔ یہی مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا حصہ بنے اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
Modi gets snubbed by Trump big time
This is right before the group pic of the G7 leaders in attendance pic.twitter.com/mPctTw3FxY
— omar r quraishi (@omar_quraishi) June 16, 2026
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اجلاسوں میں رہنماؤں کی باڈی لینگویج اور باہمی روابط اکثر توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، جبکہ اس بار بھی ٹرمپ اور مودی کی ملاقات سے جڑی ویڈیوز نے خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
Seems like "Modi G" clapped for himself, however no one pays attention. pic.twitter.com/qx9dpcWRru
— Pakistan Strategic Forum (@ForumStrategic) June 16, 2026
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل