Thursday, June 18, 2026
 

بلوچستان کا ٹیکس فری بجٹ اور عوامی توقعات

 



صوبائی حکومت کی جانب سے سرپلس اور ٹیکس فری بجٹ پیش کرنا، ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے ۔ اس تناظر میں بلوچستان کے نئے مالی منصوبے کا غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔بجٹ کا سب سے نمایاں پہلو 45 ارب 66 کروڑ روپے کے سرپلس کا دعویٰ ہے۔ عام طور پر سرپلس بجٹ کو مالی نظم و ضبط، اخراجات پر کنٹرول اور وسائل کے محتاط استعمال کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی، پسماندگی، بے روزگاری، تعلیم و صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال اور پینے کے صاف پانی تک رسائی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ بجٹ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ صوبے کی آمدن کا بڑا حصہ وفاقی منتقلیوں اور این ایف سی ایوارڈ پر مشتمل ہے۔ کل متوقع آمدن میں سے 834 ارب روپے سے زائد رقم وفاقی ذرائع سے حاصل ہوگی جب کہ صوبے کی اپنی آمدنی کا ہدف 170 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال بلوچستان کی مالی حیثیت کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایک ایسا صوبہ جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، اسے طویل مدت میں اپنے محصولات بڑھانے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ وفاقی وسائل پر انحصار وقتی ضرورت تو ہو سکتا ہے لیکن پائیدار ترقی کے لیے مقامی آمدنی کے ذرائع کا فروغ ناگزیر ہے۔ترقیاتی بجٹ کا حجم تقریباً 292 ارب روپے رکھا گیا ہے جو مجموعی اخراجات کے مقابلے میں قابلِ ذکر ضرور ہے، تاہم بلوچستان کے جغرافیائی پھیلاؤ، انفرا اسٹرکچر کی کمی اور ترقیاتی ضروریات کے پیش نظر یہ رقم ابھی بھی محدود محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کے کئی اضلاع آج بھی بنیادی سڑکوں، صحت کے مراکز، تعلیمی اداروں اور جدید مواصلاتی سہولیات سے محروم ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی صرف فنڈز مختص کرنے سے وابستہ نہیں بلکہ ان کے بروقت اور شفاف استعمال سے مشروط ہوتی ہے۔ تعلیم کے لیے 157 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنا بلاشبہ خوش آئند اقدام ہے۔ بلوچستان طویل عرصے سے کم شرح خواندگی، اسکولوں میں سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر یہ وسائل اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی تربیت، طالب علموں کی حاضری بڑھانے اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں تو صوبے کے انسانی سرمائے میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اسی طرح مستحق طلبہ کے لیے بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ اور شہید بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام تعلیم کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان پروگراموں کی شفافیت اور موثر نگرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 74 ارب روپے کی تخصیص بھی اہم پیش رفت ہے۔ بلوچستان میں صحت کی سہولیات کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، خصوصاً دور افتادہ علاقوں میں بنیادی طبی خدمات تک رسائی محدود ہے۔ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنے کا اعلان عوامی ریلیف کے نقطہ نظر سے مثبت ہے، لیکن صحت کے نظام میں حقیقی بہتری کے لیے اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی تعیناتی اور جدید طبی آلات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔امن و امان کے لیے 107 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جو صوبے کی سیکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ فہم ہے۔ بلوچستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کے باعث امن کا قیام ترقی اور سرمایہ کاری کی بنیادی شرط ہے۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے اور بعض شعبوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ عوام اور کاروباری حلقوں کے لیے اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ جائیداد کی منتقلی پر کیپٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی میں کمی سے رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کو تحریک ملنے کی توقع ہے، تاہم ٹیکس فری بجٹ کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت کو محصولات بڑھانے کے لیے انتظامی اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کی بہتری پر زیادہ توجہ دینا ہوگی تاکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے وسائل کی دستیابی برقرار رہے۔ مجموعی طور پر بلوچستان کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ اعتدال پسند مالی حکمت عملی، سماجی شعبوں پر توجہ اور مالی نظم و ضبط کے دعوؤں کا عکاس ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل، عوامی فلاح کے پروگراموں کی شفافیت اور مقامی آمدنی میں اضافے کی عملی کوششیں ہی اس مالی منصوبے کی کامیابی کا تعین کریں گی۔ بلوچستان کے عوام کو محض اعلانات نہیں بلکہ ایسے نتائج درکار ہیں جو ان کی زندگیوں میں حقیقی اور محسوس ہونے والی بہتری لا سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل