Loading
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے غیر رجسٹرڈ دکانوں اور کاروباروں کے لیے 2 کروڑ روپے سالانہ فروخت کی حد مقرر کرتے ہوئے 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی منظوری دیدی ہے ۔
کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد نئے جہازوں اور ان کے پرزہ جات پر 15 سالہ ٹیکس استثنیٰ کی درخواست کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں طلب کر لیا۔
اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس وقت پی آئی کو نئے جہازوں اور پرزہ جات پر ٹیکس کی ایک سال کی استثنیٰ موجود ہے ۔
شرمیلا فاروقی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 15 تو درکنار 5سال کی چھوٹ بھی مناسب نہیں۔ سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ اس تجویز پر آئی ایم ایف سے بھی مشاورت کی جا چکی ہے۔
کمیٹی نے مجوزہ ٹیکس چھوٹ کی منظوری موخر کرتے ہوئے حکومت کو یہ اختیار دیا کہ یا تو یہ مراعات واپس لے لی جائیں یا پھر تمام فضائی کمپنیوں کو یکساں طور پر دی جائیں۔
سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ اگر یہ مراعات منظور ہو جاتی ہیں تو خریدار جولائی کے وسط تک معاہدے کی باضابطہ تکمیل کر دیں گے۔ سیکریٹری نجکاری نے خبردار کیا کہ اگر حکومت خریداروں کو طے شدہ ٹیکس مراعات فراہم نہ کر سکی تو معاہدہ منسوخ ہو سکتا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے سیلز ٹیکس قانون کے تیسرے شیڈول میں مزید 116 اشیا کو شامل کرنے کی منظوری بھی دے دی، جو 21 مختلف زمروں پر مشتمل ہیں۔ اس اقدام سے ایف بی آر کو سالانہ 50 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ایف بی آر حکام نے اعتراف کیا کہ 15 اگست تک بعض مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اجلاس چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی اشیا پر سیلز ٹیکس کی معلومات پرنٹ کرنا لازم قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
کمیٹی ارکان نے بندرگاہوں پر پرائس ٹیگنگ کے عملی طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور دریافت کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں مصنوعات کی ٹیگنگ کیسے ممکن ہوگی۔
جاوید حنیف نے کہا کہ 2.3 ٹریلین روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، ایف بی آر حکام نے کہا حکومت تقریباً 4 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کر چکی ہے اور موجودہ استثنیٰ زیادہ تر ضروری اشیا، دالوں اور غذائی اجناس پر مشتمل ہے۔
سات ریفائنریز تقریباً 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری لانے جا رہی ہیں جس کے پیش نظر اپ گریڈیشن کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری اور سامان پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز منظور کر لی گئی۔
اسی طرح تجارتی جہازوں اور ٹینکرز کی درآمد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ دوپہر کے وقفے کے بعد دوبارہ ہونے والے اجلاس میں قائمہ کمیٹی خزانہ نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے سمیت متعدد اہم تجاویز کی منظوری دے دی ۔
برآمد کنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی۔ وراثت میں ملنے والی جائیداد کی بنیادی لاگت مالک کی وفات کے بعد ٹرانسفر کے دن سے لاگت شمار کرنے کی سفارش منظور کر لی ہے۔
سینیٹ کمیٹی ماحولیاتی تبدیلی میں شیری رحمان نے پی ایس ڈی پی کے تحت ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں کمی اور ان کے سست استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل