Loading
امریکا اور ایران میں معاہدہ باقاعدہ طورپر نافذالعمل اور عملدرآمد شروع ہونا پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابی ہے ، پاکستان نے خطے میں بحران کے خاتمہ کا مقصد حاصل کر لیا ،اگلے مراحل اب دونوں فریقین کے درمیان تکنیکی ماہرین کی سطح پر ملاقاتوں میں طے ہوں گے۔
برگن اسکاٹ ریزارٹ میں معاہدے کی تقریب کیلئے گئے پاکستان کے سفارتی مشن نے سامان پیک کر کے واپس جنیوا جانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
معاہدے پر الیکٹرانک دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں تقریب سجانے کی ضرورت نہ رہی،جس پر وزیراعظم شہبازشریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا۔
ذرائع کے بتایاکہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ فریقین میں مفاہمت کیلئے پاکستان کا کردار ایک متفقہ فریم ورک فراہم کرنے، بحران کو کم کرنے اور عمل درآمد کیلئے ایک منظم راستہ بنانے کا تھا۔ وہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے۔
اگلا مرحلہ تکنیکی سطح کے الگ الگ راستوں میں چلے گا جس میں پابندیوں میں ریلیف، میری ٹائم سکیورٹی، جوہری امور سے متعلق اقدامات اور علاقائی یقین دہانیوں کا احاطہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد نے فریقین کے درمیان تنازعات کے حل کا ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جس کے لیے اب ماہرین کی سطح کے کام کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کادورہ سوئٹزرلینڈ اس لئے ملتوی کیا گیا کیونکہ سفارت کاری نے کام کیا، معاہدہ زندہ ہے اور پاکستان اس کے نفاذ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
تکنیکی مذاکرات علیحدہ کئے جائیں گے جن میں مختلف معاملات زیر غور آئیں گے جو، ایم او یوکا مجموعی طور پر حصہ ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل