Loading
یہ کہاوت بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ لیکن اس کی سچائی کا ادراک موجودہ بجٹ میں پنشن اور تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کے بعد ہوا۔ ان کی اپنی نظر میں تو انھوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے، کیونکہ ان کی دی ہوئی مراعات تو صرف ممبران اسمبلی اور وزیروں تک ہیں ۔ بجٹ سے چند دن قبل یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ تنخواہیں پندرہ فی صد اور پنشن دس فی صد بڑھے گی، لیکن افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کی محترمہ شازیہ مری نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے، انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی پی نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہیں اور پنشن بڑھانے کو کہا تھا۔
انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بجٹ اجلاس میں پی پی کی شرکت محض علامتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کچھ یک طرفہ اقدامات کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس میں صرف ایک سیاسی جماعت کے مفادات نظر آ رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ حکومت صرف ارکان اسمبلی، وزیروں، سرمایہ داروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کی نمایندہ بن گئی ہے۔ ہم کیا یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ 1947 سے جو راگ اور ڈفلی بج رہی ہے وہ مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ جو بھی حکومت میں آتے ہیں وہ اقتدار دلانے والی قوتوں کی خوش آمد کرکے آتے ہیں اور جب تک اقتدار میں رہتے ہیں خوشامد کرتے رہتے ہیں۔
یہاں کوئی بھی صاف شفاف الیکشن یا اپنی ذاتی صلاحیتوں پر نہیں آتا۔ ایک حالیہ اخباری کالم میں (البرامکہ) کی تباہی کا حال لکھا گیا ہے کہ ’’ہمارے حکمرانوں میں ایک بھی شخص محمد ابن خالد جیسا دور اندیش نہیں ہے۔ انھوں نے خلیفہ ہارون رشید اور برمکی خاندان کے عروج و زوال کی کہانی بتائی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ’’مقتدر حلقے کے شانوں پہ بیٹھ کے آنے والے لوگ جب در بدر ہو جاتے ہیں تو اس وقت انھیں محمد ابن خالد کی کہانی یاد آتی ہے۔‘‘ لیکن پاکستان میں مقتدر حلقوں کے سائے میں پروان چڑھنے والی قوتیں ہمیشہ ان کے جنبش ابرو کے آگے سربسجود ہوتی ہیں، اسی سے ان کا دال دلیہ چلتا رہتا ہے۔
مقتدر حلقوں کو بھی ہمیشہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کل جو مجرم ٹھہرائے گئے تھے اور سزا پانے والے تھے آج ’’میوچل انڈر اسٹینڈنگ‘‘ سے ان کے سروں پہ ہما بیٹھا ہے ۔ کسی دوسرے کے گملوں میں اگی ہوئی پنیریاں زیادہ عرصہ چین کی بنسری نہیں بجاتیں، اقتدار کی رسہ کشی بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ کب پیادے اگلی صفوں میں آ جائیں اور کب جو اقتدار کی کرسیوں پر براجمان افراد کو مات ہوجائے۔
گزشتہ سال ارکان اسمبلی اور وزرا نے خودساختہ نظام کے تحت اپنی تنخواہوں مراعات اور یوٹیلیٹی بلز میں سہولت کے لیے من مانے اضافے کر لیے تھے۔ سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے دوران چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا اور ایم این اے اور سینیٹرز نے مراعات اور تنخواہوں میں من مانا اور بھاری اضافہ کیا تھا، عوامی سطح پر اس اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، کیونکہ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ملک شدید مالی اور معاشی بحران سے گزر رہا تھا۔ اس اضافے میں 535 فی صد کا غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا۔ پرانی تنخواہ 2لاکھ 5 ہزار روپے ماہانہ تھی جوکہ گزشتہ سال یہ اضافہ 13 لاکھ روپے ماہانہ ہو گیا، اس نئی بنیادی تنخواہ کے ساتھ 50 فی صد الاؤنس بھی دیا گیا۔ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کو وفاقی سیکریٹریز کے پے اسکیل کے برابر لانے کے لیے خاموش نوٹی فکیشن اور ترامیم کے ذریعے تقریباً 176 فی صد سے زائد کا اضافہ کیا گیا تھا۔
سابقہ تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار روپے ماہانہ جب کہ اضافے کے بعد نئی بنیادی تنخواہ 13 لاکھ روپے ماہانہ اور 50 فی صد کے برابر دیگر الاؤنسز بھی منظور کیا گیا۔ نئی بنیادی تنخواہ بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار کر دی گئی۔ اس کے علاوہ الاؤنسز، سفر، رہائش اور اجلاس کے یومیہ الاؤنسز الگ ہیں۔ ایک رکن اسمبلی کا ماہانہ پیکیج 6 لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا۔ وفاقی وزرا کی بنیادی تنخواہ بھی بڑھا کر 5 لاکھ روپے ماہانہ کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ہاؤس رینٹ، فری بجلی اور سرکاری گاڑیوں کی مینٹی ننس کی مد میں بھی مراعات کو بڑھایا گیا۔ وفاق کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں خاص طور پر پنجاب اور سندھ نے بھی اپنے ارکان اسمبلی اور وزرا کو تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا ۔
کیا ہی اچھا ہو کہ سندھ کی صوبائی حکومت اپنے تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کی پنشن میں کم از کم 10 فی صد اضافہ ضرور کرے۔ مہنگائی آسمان پہ جا چکی ہے، بجلی، گیس، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ ہمارے وزیر اور مقتدر حلقے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اتنی مہنگائی میں تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز کس طرح گزارا کریں گے؟
فاطمہ بتول میری دوست ہیں، 78 سال عمر ہے۔ان کا گزارا صرف اور صرف پنشن پر ہوتا ہے۔ بجٹ سے پہلے وہ یہ سوچ کر پرامید تھیں کہ اس بار پنشن میں اضافہ 15 فی صد ہوگا۔ وہ بلڈ پریشر اور شوگر کی مریضہ ہیں، گردے بھی کمزور ہیں، دوائیں بہت زیادہ مہنگی ہیں، 15 فی صد اضافے سے وہ خوش تھیں کہ دواؤں کی خریداری میں آسانی ہو جائے گی۔ یاسین علی سرکاری ملازم ہیں، چھ بچے ہیں، بڑی بیٹی بھی جاب کرتی ہے، بیٹے کی شادی ہو چکی ہے، وہ الگ رہتا ہے۔ بیٹیوں کی ابھی شادیاں نہیں ہوئیں اور کریں گے تو کیسے، کرائے کا گھر ہے۔ یہ بھی 15 فی صد اضافے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
13 جون کے اخبار نے انھیں رلا دیا۔ جہاں آرا انگریزی کی ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، شوہر بیمار رہتے ہیں، ایک بیٹی شادی شدہ ہے ان کا بھی گزارا پنشن پر ہوتا ہے۔ سارے ریٹائرڈ خواتین و حضرات 20 تاریخ کے بعد مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں، کس سے فریاد کریں۔ تیل اور گیس کی قیمتیں نیچے نہیں آ رہی ہیں۔ پٹرول 4 روپے لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں دو روپے کی کمی کرکے قوم پر احسان کیا گیا ہے۔
موجودہ بجٹ بالکل بھی عوام دوست نہیں ہے۔ یہ بجٹ امیروں اور سرمایہ داروں کا بجٹ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ روز سسک سسک کر مارنے کے بجائے لوگوں کو زہر دے دیں اور اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے لوگوں سے کہیں کہ ’’ہم آپ کو صرف زہر دے سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو خرید کر کھانا پڑے گا۔‘‘ پاکستان کا بجٹ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں شدید ناکام رہا ہے۔ اس میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے اس پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ خوردنی تیل، مٹھائیاں، دودھ اور جوتے مہنگے کر دیے ہیں یہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ آئی ایم ایف دوست ہے۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ آئی ایم ایف کا مقروض ہے۔
ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے۔ بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔ اس بجٹ کو اگر عوام دوست کہا گیا ہے تو یہ لفظ ریلیف کی توہین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بجٹ عام آدمی کی جیب پر ایک بڑا ڈاکہ ہے۔ بجٹ میں بلاواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار نے غریب اور مڈل کلاس کی کمر توڑ دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی گیس اور روز مرہ کی اشیائے خور و نوش پر ٹیکس بڑھانے سے مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آئے گا، جب آٹا دالیں اور چینی جیسی بنیادی ضرورتیں ہی عام انسان کی پہنچ سے دور ہوں تو معاشی ترقی کے حکومتی دعوے کھوکھلے نظر آتے ہیں۔ اس بجٹ میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ملک کے سب سے مخلص اور مجبور تنخواہ دار طبقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل