Loading
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ آج (اتوار) قاہرہ میں اہم اجلاس کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا ایران معاہدے پر دستخط اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاحتی مقام پر ہونے تھے لیکن اس سے قبل ہی صدر ٹرمپ، ایرانی صدر اور ثالث پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز ہی دستخط کردیئے تھے۔
ان تینوں نے دستاویز پر دستخط اپنے اپنے ملک میں بیٹھ کر کیے تھے جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب کو مؤخر کردیا گیا تھا تاہم فریقین کی ٹیکنیکل ٹیموں کو معاہدے کی جزئیات پر تبادلہ خیال کے لیے ملنا تھا۔
تاحال سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ٹیکنیکل ٹیموں کے اس اہم اجلاس کے وقت کا تعین نہیں کیا جا سکاہے حالانکہ امریکی صدر کے مشیر خاص اور داماد جیرڈ کشنر وہاں پہلے سے ہی موجود ہیں اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ بھی سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
ادھر امریکی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج کسی وقت سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوجائیں گے اور اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
اس قبل کے سوئٹزلینڈ میں کوئی بڑی بیٹھک ہو۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ قاہرہ میں آج ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، امن، سلامتی، استحکام اور امریکا، ایران مفاہمتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
میزبان ملک مصر کی وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ کے اس اہم اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔ جس میں میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل