Friday, June 19, 2026
 

پاکستان کی کینال کالونیاں: دیہی منصوبہ بندی سے جدید نکاسی آب تک کے چیلنجز

 



پاکستان کی کینال کالونیاں برطانوی دورِ حکومت میں برصغیر کی دیہی منصوبہ بندی کی ایک مثال ہیں۔ یہ کالونیاں انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں صوبہ پنجاب کے مغربی حصے میں نہری نظام کی تعمیر کے دوران قائم کی گئیں۔ ان کالونیوں کا قیام راوی، ستلج اور چناب کے دریاؤں سے نکلنے والی نہروں کے کنارے ہوا۔ ان نہروں کے نتیجے میں بنجر اور نیم صحرائی علاقے، جنہیں ’بار'‘ کہا جاتا تھا، زرخیز زرعی زمینوں میں تبدیل ہو گئے۔ انہی کینال کالونیوں کی ایک مثال چناب کالونی ہے، جو دریائے چناب اور راوی کے درمیان قائم کی گئی تھی، اور اس کا صدر مقام لائل پور تھا، جو آج فیصل آباد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کینال کالونیوں میں منظم شہروں کے علاوہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ گاؤں بھی بسائے گئے۔ یہ گاؤں قدرتی طور پر بننے والی آبادیوں کی بجائے منصوبہ بندی کے تحت قائم کی گئی نئی بستیاں تھیں۔ ہر گاؤں کا نقشہ ترتیب کے مطابق تیار کیا گیا، جس میں آبادکار خاندانوں کے لیے رہائشی قطعات مختص کیے گئے اور گھروں کے ساتھ مویشی رکھنے کے لیے مناسب جگہ رکھی گئی۔ پینے کے پانی کے لیے کنوؤں کا انتظام کیا گیا، اور مسجد و سماجی اجتماعات کے لیے مرکزی مقام مقرر کیا گیا۔ بیل گاڑیوں اور جانوروں کی آمدورفت میں آسانی کے لیے گلیاں سیدھی اور کشادہ رکھی گئیں۔ اس منصوبہ بندی کا بنیادی مقصد آبپاشی کے لیے پانی کی ترسیل کا جامع نظام قائم کرنا تھا۔ پانی کی فراہمی کے علاوہ دیہات میں جانوروں کے پینے اور نہلانے کے لیے تالاب تعمیر کیے گئے، جن کے لیے نہری پانی کا مخصوص حصہ مقرر کیا گیا۔ مجموعی طور پر یہ بستیاں کاشتکاری اور مویشیوں پر مبنی دیہی زندگی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بسائی گئی تھیں۔ کینال کالونیاں جلد ہی پنجاب کا زرعی مرکز بن گئیں۔ وسطی اور مشرقی پنجاب سے کسانوں کو لا کر ان نئی زمینوں پر آباد کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ان بستیوں نے مضبوط زرعی شناخت اختیار کر لی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ بستیاں زرعی پیداوار کا اہم ذریعہ رہیں۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں سبز انقلاب نے دیہی معیشت کو مزید مضبوط کیا۔ زیادہ پیداوار دینے والی اقسام، کیمیائی کھادیں، زرعی مشینری اور ٹیوب ویل متعارف ہوئے، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بجلی، پختہ سڑکیں اور موٹر گاڑیوں کی آمد نے دیہی زندگی بدل دی۔ یہ تبدیلی بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ کا سبب بنی جو کم آبادی اور سادہ طرزِ زندگی کے لیے بنایا گیا تھا۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے دیہات کی ترتیب کو متاثر کیا۔ کھلی جگہیں کم ہو گئیں اور پرانے تالابوں کا استعمال بدل گیا۔ اصل منصوبہ بندی ایک سادہ دیہاتی معاشرے کے لیے کی گئی تھی، جہاں گھریلو فضلہ مقدار میں کم اور سنبھالنے میں آسان تھا۔گورنمنٹ آف پنجاب کے جاری کردہ عدادوشمار کے مطابق اس وقت پنجاب کی 46697 دیہی آبادیوں میں 3161 افراد کی اوسط سے رہائش پذیر لوگوں کی تعداد 147617729 افراد پر مشتمل ہے۔آج دیہاتوں میں پیدا ہونے والا آبی فضلہ اور اس میں موجود کیمیکل کی مقدار شہروں کے برابر ہو چکی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں نکاسی آب کا جامع نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً نہری پانی کی ترسیل کے لیے بنائے گئے کھال سیوریج کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور مویشیوں کے لیے بنائے گئے تالاب گندے پانی کے جوہڑوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ تالاب نہ صرف تعفن اور مچھر پیدا کر رہے ہیں بلکہ زیر زمین آبی ذخائر کو بھی مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔ طویل عرصے تک کھلے تالابوں میں سیوریج کے پانی کے ٹھہراؤ کے اثرات زیرِ زمین پانی پر بھی واضح ہیں۔زیرِ زمین پانی کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے اور اب یہ دیہات میں رہنے والے لوگوں کے لیے سنگین صحت کے مسائل پیدا کرنا شروع ہو گیا ہے۔پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے اور لوگ مجبوراً پینے کے لیے متبادل ذرائع سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ صحت عامہ کے ساتھ ساتھ یہ آبپاشی اور کاشت کارہ کے لیے بھی سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔سیوریج میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا، کیمیکلز اور اضافی غذائی اجزاء کا آبپاشی کے پانی میں ملنا اسے فصلوں اور پانی کے ساتھ رابطے میں آنے والے کسانوں کے لیے غیر محفوظ بناتا ہے۔ وقت کے ساتھ، سیوریج سے زہریلے مادے مٹی اور فصلوں میں جمع ہو سکتے ہیں۔ آلودہ پانی کا استعمال مٹی کے قدرتی توازن کو بدل سکتا ہے، اس میں موجود نمکیات کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور زرخیزی کو کم کر سکتا ہے۔ نتیجتاً زمین کی پیداوار میں کمی اور کسانوں کے لیے طویل مدتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آلودہ پانی سے اگائی جانے والی فصلیں نقصان دہ مادوں اور بیکٹیریا کو جذب کر سکتی ہیں، جس سے فصل کے معیار اور پیداوار پر منفی اثر پڑتا ہے۔خصوصاً سبزیاں اور پھل، جن کا استعمال عموماً کچا کیا جاتا ہے، انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ کھال میں سیوریج جانا آبپاشی کے نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ ٹھوس فضلہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے، جس سے کسانوں اور محکمہ آبپاشی کے لیے کام بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے دیہی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں گھروں سے کوڑا اکٹھا کرنے اور گلیوں و نالیوں کی صفائی کا نظام شروع کیا گیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔تاہم، نکاسی آب کا ایک جامع نظام ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دیہات میں مرحلہ وار پانی صاف کرنے کے منصوبے قائم کیے جائیں۔ پانی کے معیار کی نگرانی یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کی مدد سے کی جانی چاہیے تاکہ پانی کے معیار کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں نجی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ جدید تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت نکاسی? آب کا نظام متعارف کروا کر ان بستیوں کو ایک پائیدار اور محفوظ مسکن بنایا جا سکتا ہے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل