Friday, June 19, 2026
 

پینٹاگون کو ایران جنگ کے اخراجات کی بحالی کے لیے 80 ارب ڈالر درکار

 



امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ اسے ایران جنگ کے اخراجات اور دیگر متعلقہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز درکار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کیا گیا، جسے بعد میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نائب وزیر دفاع اسٹیفن فینبرگ نے حالیہ دنوں میں قانون سازوں سے رابطہ کرکے بتایا کہ جنگی کارروائیوں، فوجی تعیناتیوں، اسلحہ و گولہ بارود کی دوبارہ خریداری اور دیگر اخراجات کے باعث اضافی مالی وسائل کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے زیرِ استعمال کئی جدید ہتھیاروں اور میزائل نظاموں کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے جنہیں دوبارہ بھرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز درکار ہوں گے۔ امریکی حکام اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ عسکری تیاری اور عالمی سطح پر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے اسلحہ ذخائر کی فوری بحالی ضروری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات تیزی سے بڑھے ہیں۔ اپریل میں پینٹاگون نے جنگ کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 25 ارب ڈالر بتایا تھا تاہم بعد میں مختلف ذرائع نے اس میں مزید اضافے کی نشاندہی کی۔ کانگریس میں اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض ارکان کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی رقم کی منظوری سے قبل جنگ کے مقاصد، حکمتِ عملی اور قانونی جواز پر مزید وضاحت درکار ہے جبکہ دیگر قانون ساز قومی سلامتی کے پیشِ نظر فوجی فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل