Loading
پاکستان کی حکومت نے اگلے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی کر دی ہے۔ اس بار پٹرول کی قیمت میں74 روپے28پیسے کمی کر دی گئی ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے31پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد صارفین کے لیے پٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے ، ڈیزل کی نئی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پرکر دیا گیا ہے اور یہ ایک ہفتے کے لیے مؤثر رہیں گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمت پر دستخط کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان اس وقت سے ہی جاری تھا جب سے یہ بات یقینی ہو گئی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے۔
اس وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بھی کم ہو رہی تھیں اور دوسری طرف گولڈ اور چاندی کے نرخوں میں بھی کمی آ رہی تھی۔ پاکستان میں چونکہ حکومت نے ہنگامی مالیاتی دباؤ کو ہینڈل کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کیا اور پٹرول کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔
ایک وقت میں تیل کی قیمتیں چار سو روپے فی لیٹر سے بھی اوپر چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد جیسے جیسے عالمی مارکیٹ میں کمی ہوتی گئی، پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان رہا۔ اب چونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں خاصی کم ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے حکومت پاکستان نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی کر دی۔ یوں عوام کو اچھا خاصا ریلیف مل گیا ہے۔
ادھر وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی کی شرح میں بھی ردوبدل کیا ہے، پٹرول پر عائد لیوی میں40.49روپے کمی کی گئی ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں 19.71روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے، ہائی آکٹین پر عائد لیوی میں 214.49روپے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ریٹیل آؤٹ لٹس کے ذریعے فروخت کے لیے پٹرولیم لیوی 53.26 روپے سے بڑھا کر 72.97 روپے فی لٹر کردی گئی ہے جب کہ پیٹرول پر ریٹیل فروخت کے لیے پٹرولیم لیوی 106.74روپے فی لٹر سے کم کرکے 66.25 روپے لٹر اورہائی آکٹین ریٹیل سطح 305.74 روپے سے کم کرکے 91.25 روپے فی لٹر کردی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، جو وعدہ قوم سے کیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا، ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔
بہتر منصوبہ بندی کی بدولت نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں، اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
خلیج میں جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ یہی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی معیشت کے دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے تھے۔ پاکستان بھی اس لہر کا شکار تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی حکومت نے جنگ کے ایام میں بہتر منصوبہ بندی کر کے ملکی معیشت میں استحکام پیدا کیے رکھا۔ بلاشبہ اس ساری صورت حال میں صوبائی حکومتوں نے بھی مثبت کردار ادا کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس مشکل صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
یہ ایک مثبت اور جمہوری سیاست کا مظہر رہا ہے۔پاکستان کی سیاست میں یہ ایک مثبت رویہ ہے جسے مستقبل میں بھی جاری رکھا جانا چاہیے۔ ایران امریکا جنگ بند ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز بھی کھل چکی ہے تاہم جنگ کے اثرات ابھی باقی ہیں۔ عالمی معیشت کو اپنی پوزیشن لینے کے لیے مزید چند ہفتے درکار ہوں گے۔
خلیجی عرب ممالک میں بھی کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی اور اس کے مثبت اثرات پاکستانی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ امید یہی ہے کہ جیسے جیسے ملکی معیشت بہتر ہو گی، عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل