Saturday, June 20, 2026
 

خیبرپختونخوا کا بجٹ

 



خیبرپختونخوا حکومت نے اگلے روز صوبے کے نئے مالی سال 2025-26 کے لیے 2170 ارب روپے مالیت کا بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا ۔ یوں ان تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت شاید صوبے کا بجٹ پیش نہ کرے یا تین ماہ کے لیے بجٹ پیش کر دیا جائے گا۔ نئے صوبائی بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 2122 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس طرح صوبے کو 48 ارب روپے خسارے کا سامنا رہے گا۔ اخراجات جاریہ کے لیے 1645.708ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 524.292 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاق، پنجاب اور سندھ کی طرح خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ تجویزکیا ہے، محنت کشوں کی ماہانہ اجرت چالیس سے بڑھا کر 45 ہزار کردی گئی، 57 ارب روپے قرضہ جات کی مد میں واپس کیے جائیں گے۔ سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50فیصد اضافے اور ملازمین کے اسپیشل سفری الاؤنس کو6 سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کردیاگیا، صوبہ کو وفاقی محصولات سے 1584.939 ارب روپے جب کہ صوبائی محصولات سے 182.410 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ کے ساتھ فنانس بل بھی پیش کر دیا ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، صوبائی حکومت نے انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کی شرح کو 2 فیصد سے کم کر کے 0.75 فیصد کر دیا ہے، 5 مرلے تک کے رہائشی اور کمرشل پراپرٹیز کو پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ دے دی گئی ہے، ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 7 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا، کم ازکم ماہانہ آمدنی والے افراد پر پروفیشنل ٹیکس ختم کر دیا گیا، گریڈ ایک سے 6 تک کے ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا، صنعتی عمارات کے لیے ٹیکس بقایاجات پر 30 فیصد چھوٹ دے دی گئی، خیبر پختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس ریلیف پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا میں انفراسٹرکچر کی تعمیرنو انتہائی ضروری ہے۔ صوبے کی حکومت کو اس مد میں خاصی رقم رکھی جانی چاہیے۔ اسی طرح شعبہ تعلیم کے لیے بھی بھاری رقم مختص کی جانی چاہیے کیونکہ خیبرپختونخوا میں نئے کالجز اور یونیورسٹیوں کی اشد ضرورت ہے۔ خاص طور پر جنوبی اضلاع میں بڑے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح سابقہ فاٹا کے اضلاع میں بھی صنعتی ترقی کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر میں بھی زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ٹورزم کی ترقی کے لیے زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔ بہرحال صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق جن ترجیحات کا تعین کیا ہے، وہ بہتر ہیں اور اب ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔ اپوزیشن اراکین نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں احتجاجی نعروں کے ساتھ آمد کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ اپوزیشن نے ہاتھوں میں احتجاجی بینرز اٹھارکھے تھے جن پر بجٹ نامنظور کے نعرے درج تھے۔ اپوزیشن خواتین اراکین بھی شدید نعرے بازی کرتی رہیں۔ بجٹ کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑاتے رہے جب کہ اسپیکر ڈائس کے سامنے بھی اپوزیشن اراکین سراپا احتجاج بنے رہے۔ پوزیشن کے شور و غل کے باوجود وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔جس پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں احتجاجی دھرنا دیدیا۔ بجٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کی اکثریت غائب رہی۔ ناراض اراکین نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ پاکستان کی سیاست میں بجٹ کے دوران اپوزیشن کے ارکان احتجاج کرتے ہیں۔ وفاقی بجٹ کے دوران بھی یہ صورت حال دیکھنے میں آئی جب کہ پنجاب اسمبلی میں بھی یہی صورت حال تھی۔ پارلیمانی نظام میں احتجاج کی اجازت ہے تاہم پارلیمنٹیرینز کو بجٹ جیسے موقع پر شورشرابے کے بجائے بجٹ تقریر کو سکون سے سننا چاہیے۔ بجٹ دستاویزات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور پھر بحث کے دوران اپنی باری پر بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کو جو تحفظات ہیں، اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل