Saturday, June 20, 2026
 

مارکیٹ

 



ایک طرف دنیا کے فاصلے کم ہو رہے ہیں، دنیا سمٹ رہی ہے، ہم ایک دوسرے کی ضرورت بنتے جا رہے ہیں،ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ یہ ترقی اس Corporation کا عکس ہے جس کو گلوبلائزیشن کہاجاتا ہے۔ امریکا اور ایران کے مابین جنگ کیونکر اور کس نے رکوائی؟یہ جنگ رکوائی مارکیٹ نے، یہ جنگ رکوائی گلوبلائزیشن نے ،جو دنیا کی مارکیٹ کو ایک صف میں لا رہا ہے،اب جنگیں بہت مختصر ہوںگی ۔ ایٹمی ہتھیار کی جنگ کا بیانیہ مارکیٹ کے ما تحت ہوگا۔ ایران، امریکا جنگ میں تیزی آتی تھی تو تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی تھیں،جس کے منفی اثرات پوری دنیا کی معیشت پر ہورہے تھے۔ اسٹاک مارکیٹ گر جاتی تھی، بانڈ مارکیٹ میں مندی آجاتی تھی، اس طرح سے سپلائی چین متاثر ہورہی تھی، دنیا میں بے روزگاری کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ دنیا کی معیشت خطرے سے دوچار تھی،دوسری جنگ عظیم یا گلوبلائزیشن سے پہلے یہ مارکیٹ اس طرح سے جڑی ہوئی نہ تھی۔ مارکیٹ ایران و امریکا کی جنگ کے خلاف تھی۔اب یہ بات بہت آگے تک نکل چکی ، ایک بہت بڑا مارکیٹ کریش آ رہا ہے مگر اس کی وجہ جنگ نہیں۔دراصل امریکا کی اسٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری اے آئی کمپنیوںمیں کی گئی اور وہ کمپنیاں اے آئی میں کمال دکھا رہی ہیںلیکن اتنا ریٹرن بھی نہیں دے رہی ہیں۔ جس طرح سے 2008 میں مارکیٹ کریش آیا تھا جب زمین کی قیمت مارگیج سطح سے بھی نیچے گر گئی تھی۔اس طرح سے بینکوں کے ایسٹس جو بیلنس شیٹ میں درج تھے وہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ تھے۔جب بینکوں نے اپنی بیلنس شیٹ درست کی تو ان کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے سینٹرل بینک کو آگے آنا پڑا،تاکہ جو اکاؤنٹ ہولڈر ہیں ،ان کو پیسے مل سکیں۔ اب وہ دور ہے ، جب مارکیٹ کریش ہورہی ہے۔جب امریکا خو د کو واحد سپر طاقت منوانے کے لیے بے چین ہے۔طاقت کاتوازن اس وقت بگڑ چکا ہے،ایسا بھی مارکیٹ نے ہی کیا ہے۔چین دنیا کی منڈیوں پر چھایا ہوا ہے کیونکہ وہ منڈیوں کو سستی اور معیاری چیزیں فراہم کرتا ہے۔ چین کو دنیا کی فیکٹری کہا جاتا ہے۔ چین وہ ملک ہے جس کی آبادی امریکا سے چار گنا زیادہ ہے اور وہاں کی پوری قوم کام کرتی ہے،چین کا فرد معیاری ہے۔اس کے انسانی وسائل بہتر ہیں اور کوئی فرد وہاں غربت کی لکیر کے نیچے نہیں رہتا۔اب مارکیٹ ہی عظیم قوت بن کر ابھر رہی ہے۔ چین ایک بڑی قوت ہے، اس کا فیصلہ بھی مارکیٹ نے کیا ہے، ساتھ ہی چین دوسری بڑی دفاعی طاقت بھی ہے۔ چین جب ماؤزے تنگ کے فلسفے کو الوداع کہہ رہا تھا تو ڈینگ زیاؤ پینگ نے یہ کہا تھا کہ ’’ہم تھوڑا سا مارکیٹ کی طرف جائیں گے۔‘‘ سوویت یونین ایسا فیصلہ نہ کر سکا۔ انھوں نے مارکیٹ کی طرف پیش قدمی نہیں کی، لہٰذا تاریخ نے ان کو مٹا دیا۔ سوویت یونین کے ساتھ پورا بلاک ٹوٹ گیا۔مارکیٹ پر چلنے والے بلاک نے سوویت یونین کو بغیر جنگ کے شکست دے دی۔ ایران و امریکا کی جنگ میں جتنے ممالک شامل تھے ،ان میں سے ایران کو چھوڑ کر خلیج کے تمام ممالک مارکیٹ پر چلنے والے ہیں۔دبئی اس حوالے سے تمام ان ممالک سے آگے ہے۔اسرائیل بہت بڑی طاقت ہے،ایٹمی طاقت بھی۔آبادی کے حساب سے اسرائیل کی آبادی، ایران کی آبادی کا دس فیصد حصہ بھی نہیں اور یہی حال عرب امارات کا بھی ہے۔ ایران کے پاس گیس اور تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔جو سرمایہ ایران نے کمایا وہ لوگوں پر خرچ نہیں کیا۔تمام تر سرمایہ اپنی دفاعی طاقت کو مضبوط کرنے پر لگایا۔مارکیٹ پر چلنے والے ممالک امریکا اور اسرائیل جو کہ خلیجی ملکوں کے درمیان بیٹھے تھے، ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ ایران کی معیشت تباہ ہو چکی ہے ۔ انسانی وسائل پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔افراطِ زر عروج پر ہے،مگر ایران اس جنگ میں تنہا نہیں تھا۔روس اور چین ، ایران کے شانہ بشانہ تھے وہ تیل اور گیس و معدنیات سے مالا مال تھے۔دیکھا جائے تو امریکا کی یہ جنگ ایران نہیں بلکہ چین کے ساتھ تھی۔ اسی جنگ کے دوران صدر ٹرمپ چین کا دورہ کرتے ہیں اور جیسے ہی یہ دورہ اختتام کو پہنچتا ہے، جناب پیوتن صاحب چین پہنچ جاتے ہیں اور پھر اسی جنگ کے دوران چین کے صدر نارتھ کوریا کا دورہ کرتے ہیں۔اس افرا تفری کا مقصد ایک دوسرے کو یہ باور کروانا تھا کہ ان میںسے کوئی اپنے مخالف کے سامنے کمزور نہیں۔ایران معاشی طور پر کمزور ضرور تھا لیکن اس کے اتحادی نہیں۔ اگر امریکا کے ساتھ اسرائیل ہے تو چین کے ساتھ اور روس اور نارتھ کوریا ہے،جس کی معیشت مارکیٹ پر نہیں چلتی بلکہ امداد پر چلتی ہے اور ان کے پاس ایسے میزا ئل کا ذخیرہ ہے جو سیدھے امریکا پر داغے جا سکتے ہیں۔ یہ کہنا کہ صدر ٹرمپ نے بڑے پیسے بنائے مارکیٹ کو اپنے بیانوں کی بدولت کبھی عروج تو پستی پر لے آنا ثانوی بات ہوگی اور کوئی بھی ایسا کرسکتا ہے۔ مارکیٹ کے تما م پہلو مثبت سہی، مگر ایک منفی پہلو یہ ہے کہ اس سے لالچی ذہن پیدا ہو تا ہے کوئی فقیر منش نہیں۔آج کل فقیر منش بھی ڈھکوسلہ ہیں۔ اس کیپٹلسٹ دنیا نے طاقت کے گرداکثر ان لوگوں کو آگے کیا جو لالچی ذہن کے مالک تھے۔ ان کے پیچھے ہم جیسے ممالک ٹھیکیدار ہو جاتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں بڑی بڑی کمپنیاں ایسے ہی لالچی ذہنوں کی الیکشن میں فنڈنگ کرتی ہیں۔بڑی بری Under Deals وہ الگ اورہماری بلڈر مافیا وہ کیسے اتنے بڑے بڑے نام بنے۔ مارکیٹ سپر طاقت تو ہے لیکن انصاف نہیں کر پاتی۔مارکیٹ ، مفاد سے جڑی ہوئی ہے۔ مفاد سے اگر انصاف ہو جائے تو ٹھیک اگر مفاد اور انصاف کا کہیں ٹکراؤ ہو جائے تو مارکیٹ بے رحم ہے۔ اس بدلتی دنیا میں ایک طرف مارکیٹ ، دوسری طرف مصنوعی ذہانت ہے جو مارکیٹ ہی کی پیداوار ہے ، تیسری طرف ہے وہ ہی کلاسیکل ریاست اور اس کی طاقت اور چوتھی جانب ہے مختلف زبانیں، ثقافتیں، مختلف اقوام اور تاریخ۔ مندر، مسجد اور کلیسا سب ایک ساتھ بھائی چارے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔یہ دنیا ایک ٹکراؤ میں ہے۔مذہب ،ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے مزید ٹکراؤ میں ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ایجاد نے مارکیٹ پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔آج سے پہلے کسی ایجاد نے ایسے اثرات مارکیٹ پر نہیں چھوڑے۔پوری Job Market تبدیل ہونے جا رہی ہے۔لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہونے جا رہے ہیں ، ایسا کہیے کہ مارکیٹ اس حوالے سے مزید بے رحم ہونے جارہی ہے۔ 78برس کے اس سفر میں پاکستان کے لیے اب نئے نئے چیلنجز پیدا ہونے جا رہے ہیں۔یہ ملک 60 کی دہائی تک ایشین ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 70 کی دہائی میں پاکستان کی شرح نمو پانچ فیصد سے زیادہ تھی۔ اس کے بعد سرد جنگ میں تیزی آئی، سرد جنگ کے زمانوں میں ہمیں امداد ملتی رہی اور ہم ان کے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنے رہے۔ہمارے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے کمزور رہیں، لہٰذا ہم بین الاقوامی آقاؤں کے رحم و کرم پر چلتے رہے، جمہوریت پنپ نہ سکی۔انفرا اسٹرکچر بن نہ سکا۔ بھٹو صاحب کے دور تک ملکی بجٹ کا زیادہ حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوتا تھا مگر اب ایسا نہیں۔رواں سال میں جو پیسے ترقیاتی فنڈز کے لیے مختص کیے گئے تھے ،اس میں سے صرف آدھے پیسے استعمال کیے گئے باقی واپس چلے گئے ۔ اس پالیسی کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔دنیا کے ممالک کے درمیان ہم سب سے کم انسانی وسائل کی بہتری کے لیے فی کس خرچ کرتے ہیں۔یہ مارکیٹ یقینا ہمارے لیے بھی سخت فیصلے کرے گی جیسا کہ اس مارکیٹ نے سوویت یونین کے لیے کیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل