Saturday, June 20, 2026
 

اب بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام مودی کے نشانے پر

 



مودی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان برپا کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنی عزت وآبرو اور جان بچانا مشکل ہو چکا ہے۔ یہ بات تو سب کو ہی پتا ہے کہ وزیراعظم مودی آر ایس ایس کا سرگرم کارکن ہے ، سب جانتے ہیں کہ آر ایس ایس ایک ہندو انتہاپسند تنظیم ہے جو بھارت کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ وہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد بھی ان کے نفرتی فارمولے پر بڑی ڈھٹائی سے عمل پیرا ہے اور اسی کے ذریعے وہ دہشت گرد تنظیم سے سفر کرتے ہوئے اب پورے بھارت پر حکومت کر رہا ہے۔ اس تنظیم کی کوکھ سے جنم لینے والی بی جے پی مودی کی رہنمائی میں تقریباً چودہ سال سے کامیابی سے حکومت کر رہی ہے۔ یہ حکومت صرف اپنی مسلم کش پالیسی کی وجہ سے ہی کامیاب ہے۔ یہ تنظیم 1925 میں ناگپور میں قائم ہوئی، اس کا بانی بلّی رام ہیگڑے تھا۔ اس تنظیم کی ایک ساتھی تنظیم ہندو مہاسبھا سنگھٹن ہے جس کا اہم لیڈر دامودر ساورکر تھا۔ ادھر ہندوستان میں انگریز سرکار 1857 کی جنگ آزادی کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ ہندوستان میں مسلمانوں سے نمٹنا بہت مشکل ہے کیونکہ انھوں نے مسلمانوں کی حکومت کو ختم کرکے ہندوستان پر قبضہ کیا ہے۔ مسلمانوں سے نمٹنے کے لیے انھیں جس ہندو رہنما کی تلاش تھی بالآخر وہ مل گیا۔یہ تھا ساورکر۔ انگریزوں نے اسے اس سلسلے میں ہر قسم کی سہولتیں فراہم کر دیں اور مالی طور پر بھی مستحکم کر دیا۔ ایسے میں ساورکر نے آر ایس ایس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ کا آغاز کر دیا۔ مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے اور ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ متعصب ہندوؤں کا کھلا نعرہ تھا کہ مسلمان ہندوستان سے نکل جائیں کیونکہ وہ غیرملکی ہیں۔ کئی شہروں میں مسلمانوں کو شدھی کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ اس طرح آر ایس ایس اور مہاسبھا کا گٹھ جوڑ مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے اختیار کرنے لگا۔ انتہا پسند ہندوؤں کی اس مسلم آزار کارروائیوں نے دونوں قوموں کے درمیان رشتوں میں دراڑ ڈالنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ ہندوؤں کی اس نفرت کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا خیال زور پکڑنے لگا اور بالآخر وہ قیام پاکستان کی صورت میں نمایاں ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا نے مسلمانوں کے خلاف ہندوستان میں اپنی مسلم کش پالیسی جاری رکھی مگر یہ بھی خیال نہ کیا کہ مسلمانوں کی خاصی تعداد پاکستان کے قیام کے خلاف بھی تھی اور انھوں نے متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لیے بڑی بڑی قربانیاں بھی دی تھیں۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے انگریز سرکار سے ٹکر لینے والے ایک مسلم رہنما مولانا برکت اللہ بھوپالی بھی تھے۔ آپ نے 1915 میں کابل میں ہندوستان کی جلاوطن حکومت قائم کی تھی جس کے وزیراعظم وہ خود اور صدر راجا مہندر پرتاب تھے۔ انھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے متعدد ممالک کے دورے کیے اور وہاں کی حکومتوں سے آزادی کے لیے مدد مانگی تھی۔ وہ اس سلسلے میں جاپان، امریکا اور کئی ممالک کے دوروں پر گئے۔ انھوں نے ہٹلر سے بھی مدد مانگی تھی۔ بالآخر وہ آزادیٔ ہند کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے 1927 میں امریکی شہر سان فرانسسکو میں وفات پا گئے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد ان کی جائے پیدائش بھوپال کی یونیورسٹی کو ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ اب یہ مسلم نام مودی کی بی جے پی حکومت کو بہت بھاری پڑ گیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کی نفرت کی بنیاد پر حکومت کر رہی ہے چنانچہ وہ اس نفرت کو مزید بڑھا کر زیادہ سے زیادہ بھارتیوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے حالانکہ بھارت کے عام لوگ مودی اور بی جے پی کے سخت خلاف ہیں کہ انھوں نے نفرت کی آندھی چلا کر بھارت کو عدم استحکام کا شکار کردیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بھارت کی ترقی کی جانب توجہ دینے کے بجائے مودی کی تمام تر توجہ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے پر مرکوز ہے۔ وہ کانگریس کی کامیاب پالیسیوں کو ترک کرکے اسرائیل سے دوستی بڑھا رہا ہے اور مسلمانوں کے قاتل نیتن یاہو کا ہمنوا بن گیا ہے، اسی لیے بھارت عربوں میں غیرمقبول ہے۔ پہلے ایران بھارت کا دوست تھا مگر اب وہ بھی مودی کی نیتن یاہو سے بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے بھارت کی جگہ پاکستان کو ترجیح دیتا ہے اور اسی لیے اس نے امریکا سے مصالحت کرنے میں بھارت کے بجائے پاکستان کی ثالثی کو قبول کیا ہے۔ اس وقت مودی جہاں بھارت کے کئی شہروں کے اداروں کے مسلم اکابرین پر رکھے گئے نام تبدیل کرا رہا ہے وہاں اس نے تعلیمی اداروں کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔ بھوپال کی مولانا برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر اسے ’’واگ دیوی بھوجپال‘‘ کا نام دینا چاہتا ہے۔ بھوپال کے مسلمانوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے گوکہ وہ کھل کر اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں مگر مودی کے دور میں مسلمانوں کی تو سپریم کورٹ بھی نہیں سنتا، وہ بھی مودی کے حق میں ہی فیصلہ دیتا ہے۔ اس نے بابری مسجد کو سپریم کورٹ سے سازباز کرکے ہی مندر میں تبدیل کرا دیا ہے البتہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام تبدیل نہ کر پایا، اس لیے کہ اس سلسلے میں کئی قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ بہرحال اب دیکھئے برکت اللہ یونیورسٹی کا کیا ہوتا ہے، وہ جب الٰہ آباد کا نام تبدیل کرا کے پریاگ راج کرا چکا ہے تو اس یونیورسٹی کا نام تبدیل کرانا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے مگر اس سے مودی کی مسلم دشمنی کی انتہا کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل