Loading
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر بھی مستعفی ہوگئے 2019 میں خاتون وزیراعظم تھریسا مے کے بعد کوئی وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا جس کے بعد برطانیہ میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری سیاسی عدم استحکام کا ایک اور باب کھل گیا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ مستعفی ہونے کے باجود وہ نئے لیبر رہنما کے انتخاب تک بطور نگراں وزیراعظم ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
یاد رہے کہ ڈیوڈ کیمرون مئی 2015 کے عام انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ دوسی مدت کے لیے بھی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت 2020 تک چلنی تھی۔
تاہم جون 2016 میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر ریفرنڈم کرایا جس میں عوام نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ذاتی طور پر یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھے اور اس کے لیے وہ باقاعدہ مہم بھی چلاتے رہے تھے۔
جب بریگزٹ رفرنڈم میں ڈیوڈ کیمرون کی رائے کے برخلاف فیصلہ آیا تو انھوں نے سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یعنی وہ محض ایک سال ہی وزیراعظم رہے۔
ان کے مستعفی ہونے کے بعد وزارت عظمیٰ کی حقدار تھریسامے ہوئی جنھوں نے جولائی 2016 میں عہدہ سنبھالا اور یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
تاہم ان کی بنائی گئی پالیسی کو بار بار مسترد کیا گیا اور برگزٹ ڈیل کاعوامی امنگوں کے مطابق طے نہ ہونے کے باعث تھریسامے کو اپنی جماعت میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تین سال کوششوں کے باوجود ناکامی پر مستعفی ہوگئیں۔
2016 میں تھریسا مے کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے برطانیہ کا کوئی بھی وزیراعظم اپنی مکمل آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ ہر وزیراعظم یا تو اپنی جماعت کے اندر بغاوت، عوامی دباؤ، معاشی بحران یا انتخابی شکست کے باعث اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
تھریسامے کے جولائی 2019 میں مستعفی ہونے کے بعد بورس جانسن نے بطور وزیراعظم عہدہ سنبھالا اور برگیزٹ ڈیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی سے متعلق مشہور زمانہ پارٹی گیٹ اسکینڈل، اخلاقی تنازعات اور درجنوں وزرا کے اجتماعی استعفوں کے بعد اپنی جماعت کا اعتماد کھو بیٹھے اور استعفیٰ دے دیا۔
بورس جانسن بھی تقریباً تین سال ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ان کے بعد لز ٹرس نے ستمبر 2022 میں یہ عہد سنبھالا وہ برطانیہ کی تاریخ کی مختصر ترین مدت تک رہنے والی وزیراعظم ثابت ہوئیں۔
ان کے متنازع ’’منی بجٹ‘‘ نے مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچا دی۔ پاؤنڈ کی قدر گر گئی اور حکمران جماعت نے ان سے حمایت واپس لے لی، جس کے بعد وہ صرف 44 دن بعد مستعفی ہو گئیں۔
لز ٹرس کے بعد قرعہ فال بھارتی نژاد رشی سونک کے نام نکلا۔ انھوں نے اکتوبر 2022 میں عہدہ سنھالا اور معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن مہنگائی، معاشی سست روی، غیر قانونی تارکین وطن کا بحران اور عوامی ناراضی کے باعث کنزرویٹو پارٹی عام انتخابات میں تاریخی شکست سے دوچار ہوئی، جس کے بعد وہ اقتدار سے باہر ہو گئے۔
رشی سونک کی ناکامی کا خمیازہ ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کو بھگتنا پڑا اور طویل عرصے بعد ملک میں لیبر پارٹی کی حکومت بنی جب کہ وزیراعظم کے لیے سر کیئر اسٹارمر کو چنا گیا۔
لیبر پارٹی کو 2024 میں تاریخی کامیابی دلانے والے کیئر اسٹارمر دو سال بھی مکمل نہ کر سکے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خراب نتائج، پارٹی کے اندر اختلافات، متعدد وزرا کے استعفے، پالیسیوں پر تنقید اور ارکان پارلیمنٹ کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے بعد انہوں نے پارٹی قیادت چھوڑنے اور وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
ماضی میں کیا ہوتا رہا؟
خیال رہے کہ برطانوی سیاسی تاریخ میں مارگریٹ تھیچر نے 1979 سے1990 تک تقریباً 11 سال بطور وزیراعظم حکومت کی۔
ان کے بعد بننے والے وزیراعظم جان میجر بھی 1990 سے 1997 تک تقریباً 7 سال وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہے۔
ٹونی بلیئر بھی 1997 سے 2007 مسلسل 10 سال وزیراعظم رہے۔ گورڈن براؤن 2007 سے 2010 تقریباً 3 سال وزیراعظم رہے لیکن وہ انتخابی شکست کے بعد مستعفی ہوئے تھے ان کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے 2010 میں عہدہ سنبھالا۔
ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کی پہلی اتحادی حکومت کو پورے پانچ سالہ مدت تک کامیابی سے چلائی اور مئی 2015 میں دوبارہ منتخب ہوئے لیکن 2016 میں یعنی دوسرے دور حکومت کے ایک سال بعد ہی بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج پر مستعفی ہوگئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل