Monday, June 22, 2026
 

الزامات سے بری سرکاری ملازم برخواستگی کے وقت سے مکمل تنخواہ کا حق دار ہوگا، سپریم کورٹ

 



سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آگیا، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الزامات سے باعزت بری سرکاری ملازم اُس مکمل تنخواہ کا حق دار ہوگا جو اُسے برخاست یا معطل نہ کیے جانے کی صورت میں ملتی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم الزامات سے باعزت بری ہوجائے تو وہ اُس مکمل تنخواہ کا حق دار ہوگا جو اسے برخاست یا معطل نہ کیے جانے کی صورت میں ملتی، سرکاری ملازم کا الزامات سے باعزت بری ہونے پر اُسکی ڈیوٹی سے غیر حاضری کی مدت کو ڈیوٹی پر گزارا گیا وقت تصور کیا جائے گا محکمانہ کارروائی اور فوجداری کارروائی کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محکمانہ کارروائی کا پہلا مرحلہ انکوائری ہوتا ہے جس میں اظہار وجوہ کا نوٹس دیا جاتا ہے، شوکاز نوٹس کا مقصد الزام کا سامنے کرنے والے شخص کو جواب دینے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، محکمانہ کارروائی میں ثبوت کا معیار امکانات کا توازن جب کہ فوج داری مقدمے میں استغاثہ کو شک و شبہ سے بالاتر جرم ثابت کرنا ہوتا ہے، فوج داری کارروائی اور محکمانہ کارروائی آزادانہ بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں تادیبی کارروائی کے ذریعے ملازمت سے برخاستگی سے قبل اپیل کنندہ کو موقع فراہم نہیں کیا گیا جو آئینی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کے پی پچھلی مراعات دینے کے بارے میں دوماہ میں فیصلہ کرے۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ کے پی سروس ٹربیونل کے 7مئی 2019ء کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ درخواست گزار ضلع بنوں میں گریڈ 17 پر سیکنڈری اسکول ٹیچر رہا۔ ایک فوج داری کیس پر سزا کے سبب اسکول ٹیچر کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ ہائی کورٹ بنوں بینچ نے اسکول ٹیچر کو الزامات سے بری کردیا۔ الزامات سے بری ہونے پر اسکول ٹیچر نے تمام سابقہ مراعات کے ساتھ بحالی کے لیے محکمانہ اپیل دائر کردی۔ محکمانہ اپیل میں اسکول ٹیچر کو بحال کردیا لیکن مراعات دینے سے انکار کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل