Tuesday, June 23, 2026
 

امریکا نے 60 روز کیلیے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دیدی

 



ایران کی جانب سے دو اہم شرائط پر عمل درآمد کی یقین دہانی پر امریکا نے بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری تعمیری مذاکرات کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی  کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کی قیادت میں دنیا کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکراتی فریم ورک کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس پیش رفت کے بعد 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے تاہم یہ رعایت عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور مذاکرات کی پیش رفت پر ہوگا۔ Under President @realDonaldTrump and @VP, we continue to make the world safer and more prosperous. In line with the ongoing productive talks in Switzerland, Iran has committed to free and open transit in the Strait of Hormuz and to permit International Atomic Energy Agency… — Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) June 22, 2026 محکمہ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مذاکرات کے دوران طے پانے والے فریم ورک پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کرنا اور ایران کو اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کا موقع دینا ہے۔ واضح رہے کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فریقین کی تکینیکی ٹیمو کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا جس میں طے شدہ نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل