Loading
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ وفاق کو چاہیئے اپنی ریونیو جنریشن بڑھائے اور شاہ خرچیاں ختم کرے، صوبوں سے پیسے مانگنا ناجائز مطالبہ ہے سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکلنا چاہیئے۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بجٹ میں عوام کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا بجٹ میں نہ علاج کی کوئی سہولت ہے نہ تعلیم کے لیے کچھ رکھا گیا، اگر ملک میں آبادی بڑھ رہی ہو اور آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں تو لوگ کیا خوش ہوں گے؟
انہوں ںے کہا کہ صوبوں کا وفاقی کی مالی معاونت کرنا آئینی معاملہ ہے، این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو ان کا شیئر ملنا چاہیئے، وفاق کو چاہیے اپنی ریونیو جنریشن بڑھائے اور شاہ خرچیاں ختم کرے صوبوں سے پیسے مانگنا ناجائز مطالبہ ہے، سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکلنا چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون میں جیسے تبدیلیاں لائی جارہی ہیں اس سے صورت حال گھمبیر ہو جائے گی، بجٹ عددی اکثریت کے بل بوتے پر پاس کیا گیا، ایسے قوانین کو پاس نہیں کرنا چاہئیے جس سے عوام کو ریلیف نہ ملے۔
انہوں ںے کہا کہ ہر پاکستانی کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا ہے جو بھی ثالثی کرے ایک بات واضح ہے کہ گولی نہیں چلنی چاہئیے عوام پر سختی نہیں کرنی چاہئیے، دونوں فریقین کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کریں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عوامی مطالبات کے ہم ساتھ ہیں حکومت نے بھی معاہدہ کرکے کہا تھا ہم ان پر عمل درآمد کریں گے لیکن جو 12 سیٹوں والا معاملہ ہے یہ آئینی ہے اسے پارلیمان میں حل ہونا چاہیے یہ ہمارا اسٹینڈ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کی آج کی ملاقات میرے علم میں تھی لیکن ملاقات نہیں ہوئی، بشری بی بی کی فیملی نہیں آئی شاید مس کمیونیکیٹ ہوگیا، تسلی جب ہوگی جب ملاقات ہوگی، سنگل ملاقات نہیں ہونی چاہیے بلکہ مسلسل ہونی چاہیےم ملاقاتیں بند ہونے سے تشویش ہے، 35 ہفتے سے زائد ہوگئے، ملاقات نہیں ہوئی، یہ غیر انسانی سلوک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی کو آنکھ میں پانچ انجکشن لگائے گئے، ہمیں آج تک نہیں پتا کہ بانی کی آنکھ کیسی ہے؟ ہمارا آج بھی مطالبہ ہے کہ بانی کو اسپتال منتقل کیا جائے، فیملی اور ذاتی معالج کی نگرانی میں ان کا علاج کرایا جائے، بشری بی بی کو دو مرتبہ اسپتال لے کر گئے، آج بھی ان کی فیملی کی ملاقات نہیں ہوئی جب تک آپ ملاقاتیں بند رکھیں گے یہ تشویش ختم نہیں ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل