Wednesday, June 24, 2026
 

ایران کے جوہری مراکز کا معائنہ ہو کر رہے گا، آئی اے ای اے سربراہ کا دوٹوک اعلان

 



ٹوکیو: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ادارے کے معائنہ کار بالآخر ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کا معائنہ کریں گے، اگرچہ اس کے وقت کے تعین کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی شیڈول موجود نہیں۔ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کے جوہری مراکز کا معائنہ ہونا یقینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل دو دن، ایک ہفتے یا دس دن بعد ہو سکتا ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ معائنہ ضرور ہوگا۔ آئی اے ای اے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری نگرانی اور معائنوں کے معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے سربراہ رافیل گروسی کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ممکنہ معائنے کے لیے کوئی واضح شیڈول طے کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں جوہری پروگرام کی نگرانی اور بین الاقوامی معائنے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ ایسے میں آئی اے ای اے کے سربراہ کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں جوہری نگرانی کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر عالمی برادری کی توجہ مسلسل مرکوز ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ادارہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل