Wednesday, June 24, 2026
 

منگیتر کی موت کے باوجود ٹیم کی مدد کیلیے میدان پہنچنے والے کیوی لیجنڈ انتقال کرگئے

 



نیوزی لینڈ کے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر باب بلیئر اپنی 94ویں سالگرہ کے روز انتقال کر گئے۔ وہ نہ صرف اپنی تیز رفتار بولنگ بلکہ کرکٹ تاریخ کی ایک انتہائی جذباتی اور بہادرانہ اننگز کے باعث بھی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ باب بلیئر نے 1953 سے 1964 کے درمیان نیوزی لینڈ کی جانب سے 19 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 43 وکٹیں حاصل کیں تاہم دسمبر 1953 میں جنوبی افریقا کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ میں دکھائی گئی غیر معمولی ہمت ان کی پہچان بنی۔ اس میچ کے دوسرے روز کی صبح کیوی ٹیم کو نیوزی لینڈ میں تانگی وائی ریل حادثے کی خبر ملی جس میں 151 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں بلیئر کی منگیتر نیریسا لوو بھی شامل تھیں۔ غم سے نڈھال بلیئر ٹیم ہوٹل میں رکے ہوئے تھے اور شائقین کو یقین تھا کہ وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں آئیں گے لیکن نویں وکٹ گرنے کے بعد وہ اچانک کریز پر پہنچ گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود بیٹنگ کرنے والے برٹ اسٹکلف کے ساتھ بلیئر نے آخری وکٹ کی شراکت میں 33 رنز جوڑے جسے کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں ان کی یاد اور تانگی وائی حادثے کی مناسبت سے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے فاتح کو ’تانگی وائی شیلڈ‘ دی جانے لگی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ نے بلیئر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کھلاڑی سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اتریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل