Loading
انگلینڈ اور گھانا کے درمیان ورلڈکپ کے گروپ مرحلے کا اہم میچ بغیر کسی گول کے برابری پر ختم ہوا۔
تاہم مقابلے کے بعد سب سے زیادہ بحث ایک متنازع فیصلے پر ہوئی جس پر گھانا کے کوچ کارلوس کیروش نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
میچ کے آخری لمحات میں گھانا کے پرنس کوابینا آدو انگلینڈ کے باکس میں داخل ہوئے تو دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کے ساتھ ان کا تصادم ہوا اور وہ زمین پر گر گئے۔
گھانا کے کھلاڑیوں نے فوری طور پر پنالٹی کا مطالبہ کیا لیکن ریفری نے کھیل جاری رکھا جبکہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (ای اے آر) نے بھی مداخلت نہیں کی۔
Dear .@FIFAcom .@FIFAWorldCup some of your offiating officials must be looked into or it’s either you yourself have scripted this tournament in favor of some countries.. how was the incident not reviewed by VAR ?
You can do better pic.twitter.com/ely6Fv4sZM
— MAX-TYME (@maxtyme_1) June 23, 2026
میچ کے بعد کارلوس کیروش نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں شک ہے آیا ورلڈ کپ میں وی اے آر اب بھی کام کر رہا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گھانا کو ایک واضح پنالٹی ملنی چاہیے تھی اور انگلینڈ خوش قسمت رہا کہ یہ فیصلہ ان کے حق میں نہیں گیا۔
????️ "I'm not sure if VAR is still working at World Cup."
Ghana head coach Carlos Queiroz believes his side should have had a penalty in draw against England. pic.twitter.com/sC6S2nLGdS
— Sky Sports News (@SkySportsNews) June 24, 2026
دوسری جانب متعدد سابق انگلش کھلاڑی اور ماہرین بھی اس معاملے پر گھانا سے متفق دکھائی دیے۔
سابق اسٹار اسٹرائیکر وین رونی نے کہا کہ کونسا نے گیند کے بجائے کھلاڑی کو ٹکر ماری اور یہ پنالٹی قرار دی جا سکتی تھی۔
سابق دفاعی کھلاڑی مائیکا رچرڈز نے بھی رائے دی کہ کسی اور دن یہ فیصلہ یقینی طور پر پنالٹی کے حق میں جا سکتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق فیفا نے اس ورلڈ کپ میں وی اے آر مداخلت کے لیے نسبتاً سخت معیار مقرر کیے ہیں، جس کی وجہ سے کئی ایسے واقعات پر نظرثانی نہیں کی جا رہی جنہیں معمول کے حالات میں ریویو کیا جا سکتا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل میسی کو ریڈ کارڈ نہ دکھائے جانے پر بھی ای اے آر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل