Loading
افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کےآپریشن غضب للحق کی عالمی سطح پر پذیرائی کی جا رہی ہے۔
پاکستان افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں اورعسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنارہا ہے۔ اس حوالے سے معروف امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغان طالبان اورفتنۃ الخوارج کے خلاف پاکستان کی بہترین آپریشنل حکمت عملی کوسراہا ہے۔
بین الااقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی مہم اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان نے نہ صرف دہشتگرد نیٹ ورکس بلکہ ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق آپریشن غضب للحق کا مقصد پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے ۔ فتنۃ الخوارج اورفتنۃ الہندوستان افغان سرزمین سے مسلسل پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔ افغان طالبان کمانڈرملا محمد زئی اخوندقندھارمیں فتنۃ الخوارج کے تربیتی امور اور لاجسٹکس کی نگرانی کرچکے ہیں۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس کے مطابق آپریشن غضب للحق کو فتنۃ الخوارج کو حاصل افغان طالبان کی پشت پناہی روکنے اوردہشتگردی کیخلاف اہم حکمتِ عملی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کےبعدملک میں دہشتگردی کےواقعات میں نمایاں کمی آئی ہے جواس آپریشن کی کامیابی کاواضح ثبوت ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل