Wednesday, June 24, 2026
 

غزہ میں اسرائیل جان بوجھ کر بچوں کو قتل کر رہا ہے؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے رُلا دیا

 



اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہیں اور یہ عمل فلسطینی نسل کشی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا جبکہ نئی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ تازہ رپورٹ میں شواہد کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینی بچوں کی غیر معمولی پیمانے پر اموات ہوئیں، شدید زخمی ہوئے اور ذہنی صدمے کا شکار ہوئے۔ اقوام متحدہ کی آزاد کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود فلسطینی بچوں کی شہادتیں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات تاحال جاری رہے۔ کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف جنگ بندی کا احترام نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری بھی پوری نہیں کی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہے۔ غزہ میں بچوں پر تباہ کن اثرات رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے، انسانی اور طبی امداد کی فراہمی محدود رکھی اور ایسی پابندیاں عائد کیں جن سے فلسطینی بچوں کی زندگی، صحت اور جسمانی و ذہنی نشوونما کو شدید نقصان پہنچا۔ کمیشن کے مطابق اسرائیلی افواج نے منظم انداز میں اسپتالوں، طبی مراکز اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق سہولیات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے باعث ہزاروں بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی نے دو سالہ جنگ کا خاتمہ کیا، تاہم غزہ میں مکمل امن قائم نہ ہو سکا اور حملوں کی شدت میں صرف کمی آئی۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد کے آٹھ ماہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 250 سے زیادہ بچے شامل تھے۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس نے متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور اسی وجہ سے فوجی کارروائیاں جاری رکھنا پڑیں۔ غزہ کے 70 فیصد علاقے پر اسرائیلی کنٹرول رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرنا تھا، تاہم اس کے برعکس اسرائیل نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اضافہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی افواج اب غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے پہلے ایک یلو لائن مقرر کی تھی مگر بعد میں اس سے آگے بڑھ کر نئی اورنج لائن قائم کر دی جس سے فلسطینیوں کے رہائشی علاقے مزید محدود ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان حدود کے قریب جانے والے سیکڑوں فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ مسلسل تبدیل ہونے والی سرحدوں کی وجہ سے بچے بھی غیر محفوظ صورتحال کا شکار ہیں۔ مغربی کنارے میں بھی بچوں کے خلاف طاقت کا استعمال رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے وہاں بھی فلسطینی بچوں کے خلاف غیر متناسب، غیر ضروری اور سزا دینے کے مقصد سے طاقت کا بار بار استعمال کیا جسے جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسیلم کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں کم از کم 236 فلسطینی بچے شہید ہوچکے ہیں۔ بچوں کی گرفتاریاں اور گمشدگیاں کمیشن نے غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں فلسطینی بچوں کی بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں گرفتار کیے گئے متعدد بچوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور ان کی موجودہ حالت یا مقام معلوم نہیں۔ ادھر اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کمیشن کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی اور جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی اقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹس کی طرح بے بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے بھی رپورٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی دستاویز ہے جس میں حماس کے جرائم، 7 اکتوبر کے حملے، یرغمالیوں اور حماس کی جانب سے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینی بچوں کے خلاف مبینہ جرائم سے روکنے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر غزہ میں فوجی کارروائیاں بند کرے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت بچوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جبکہ عالمی برادری اسرائیلی حکام کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹس پر عمل درآمد، اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے اور متعلقہ اسرائیلی حکام اور آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل