Loading
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
عالمی جریدے بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل برینٹ کروڈ 74.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا جو بعد میں مزید گر کر تقریباً 73.8 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی ہے جو فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معمول پر آنا ہے۔
علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے 60 روز کے لیے پابندیاں نرم کرنے کے بعد ایرانی خام تیل کی برآمدات میں ممکنہ اضافے سے بھی عالمی منڈی میں رسد بڑھنے کا امکان ہے۔
ایک اور بڑی وجہ خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی میں اضافے اور بعض کارگو رعایتی نرخوں پر فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ان تمام پیشرفتوں کے بعد سرمایہ کاروں نے تیل کی قیمتوں میں شامل اضافی جیو پولیٹیکل رسک پریمیم نکالنا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتوں میں مزید تیزی سے کمی آئی۔
اسی دوران سونے کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں نسبتاً بہتری آئی ہے۔
اگرچہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم توانائی کے شعبے کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ کشیدگی بڑھنے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آسکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل