Loading
مالی تجزیاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایران سے خام تیل کی درآمدات پرسالانہ 340 ملین ڈالر کی بچت کرسکتا ہے اور ایران پرعائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ یقینی ہے۔
اے پی پی کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2012 میں ایران پر اقتصادی پابندیوں میں سختی سے قبل پاکستان اور ایران کے تاریخی مستحکم تجارتی تعلقات تھے اور مالی سال 2010 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 1.2ارب ڈالر سے زائد تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں کے بعد پاک-ایران دو طرفہ تجارت میں کمی واقع ہوئی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ پاکستان پابندیوں سے قبل ایران کو چاول، کینو، آم، آڑو، ٹیکسٹائل مصنوعات، ادویات اور آلات جراحی سمیت کھیلوں کا سامان وغیرہ برآمد کرتا تھا جبکہ ایران سے خام تیل، صنعتی خام مال سمیت مختلف مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران سرحدی علاقوں میں خصوصی اقتصادی زونز کے تحت دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک توسیع دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ اگر دونوں ممالک کے تجارتی رابطے بحال ہوجاتے ہیں تو نہ صرف پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ پیٹرولیم منصوعات کی درآمدات سے پاکستان 10 سے 20 فیصد کم قیمت کے نتیجے میں سالانہ 340ملین ڈالر تک کی بچت کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی طرح اسٹیل اور صنعتی خام مال کی درآمدات سے بھی قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل