Loading
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سکیورٹی حصار میں اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ صوبے بھر میں بھی عاشورہ محرم کے تمام جلوس اور مجالس خیر و عافیت سے مکمل ہوئیں۔
مرکزی جلوس صبح شہداء چوک علمدار روڈ سے برآمد ہوا، جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس علمدار روڈ، میزان چوک، لیاقت بازار، پرنس روڈ، باچا خان چوک اور میکانگی روڈ سے ہوتا ہوا اپنی منزل پر اختتام پذیر ہوا۔
جلوس میں 36 ماتمی دستوں نے شرکت کی جبکہ شرکاء نے باچا خان چوک پر نمازِ ظہرین ادا کی اور ملک کی سلامتی، امن و استحکام اور شہدائے کربلا کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں یومِ عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔
مرکزی جلوس کے 60 سے زائد داخلی راستوں کو قناتیں لگا کر اور بڑے ٹرک کھڑے کرکے سیل کیا گیا، جبکہ کوئٹہ شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر معطل رکھی گئی۔پولیس، ایف سی، بلوچستان کانسٹیبلری، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات رہے۔
صوبے بھر میں 32 ہزار جبکہ کوئٹہ شہر میں 5 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور رہے۔ جلوس کی نگرانی سیف سٹی، نجی کیمروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے کی گئی جبکہ آئی جی آفس، ڈی سی آفس اور دیگر مقامات پر کنٹرول رومز بھی قائم کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی جلوس میں تقریباً 35 ہزار عزادار شریک ہوئے۔
جلوس کے راستوں پر میڈیکل کیمپس، سبیلیں اور سات ریسکیو پوائنٹس قائم کیے گئے جبکہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی۔بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر عاشق حسین ہزارہ نے جلوس کے پرامن انعقاد پر پولیس، ایف سی، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سکیورٹی انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ کا دورہ کیا اور ڈیٹا کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹر سے صوبے بھر میں جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومِ عاشور پر امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح رہی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے۔بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا کہ الحمدللہ بلوچستان بھر میں محرم الحرام کے تمام جلوس اور مجالس خیر و عافیت اور پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، علمائے کرام، منتظمینِ جلوس و مجالس، رضاکاروں اور عوام کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں کے باعث صوبے میں امن و امان برقرار رہا اور عوام نے اتحاد، رواداری اور ذمہ داری کا مثالی مظاہرہ کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل