Saturday, June 27, 2026
 

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب

 



سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ نے وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں سے غیر آئینی طور پر حاصل کیے جانے والے فنڈز کی نگرانی مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ذریعے کی جائے۔ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ آئین پاکستان 1973ء کو نظر انداز کرتے ہوئے کابینہ میں موجود ’نارووال گینگ‘ نے 3 برس کے لیے قابل تقسیم پول میں صوبوں کے حصے کو منجمد کر دیا اور آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں سے گرانٹس بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی حکومت کے مالیاتی انتظام کی خامیاں واضح طور پر سامنے آئی ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں، کمزور نگرانی، رقوم کی عدم وصولی، غیر مجاز اخراجات اور حکمرانی کی ناکامیاں شامل ہیں۔ سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ صوبوں سے غیر آئینی طریقے سے حاصل کیے جانے والے فنڈز کا انجام بھی اسی طرح ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ ان فنڈز کی نگرانی مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے کی جائے تاکہ شفافیت اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل