Loading
سینیٹ قائمہ کمیٹی غلط معلومات دینے پر چیف آپریشنز ایف بی آر پر برہم ہو گئی اور انہیں اجلاس سے باہر نکال دیا اور ایف آئی اے کو انمول پنکی کیس کی مکمل تفتیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کااجلاس پیرکے روز ہوا جس کی سربراہی سینیٹر سیف اللہ ابڑونے بطورکنوینر کی، سب کمیٹی غلط معلومات دینے پر چیف آپریشنز ایف بی آر پر برہم ہو گئی اور چیف آپریشنز کو اجلاس سے نکال دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ایسے افسر عہدوں پر بٹھائے گئے ہیں جو غلط معلومات دے رہے ہیں،3، 4افسران نے پورے ملک کا بیڑاغرق کیا ہوا ہے، ایف بی آر کو طلب کرتا ہوں تو مجھے نوٹس بھجوا دیا جاتا ہے۔
ایف بی آر کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری کوئی کمپنی نہیں ہے، وزیراعظم سے اپیل کروں گا ایسے افسران سے ہماری جان چھڑائی جائے۔
اجلاس کے دوران ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا سمیت سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی، چیئرمین کمیٹی نے ملزمہ کو حاصل غیر معمولی سیکیورٹی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب انمول پنکی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اسکے پیچھے 20، 20 پولیس موبائلز لگائی گئیں اتنا پروٹوکول تو ملک کے وزیراعظم کو بھی نہیں ملتا، میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سیف اللہ ابڑونے کہا میراخیال ہے اگلے سال انمول پنکی کو بھی صدارتی ایوارڈ دیدیا جائیگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل