Tuesday, June 30, 2026
 

سندھ پی اے سی کی 33 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری

 



سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مختلف وفاقی و صوبائی محکموں سے 33 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کروا کر سندھ کے سرکاری خزانے میں جمع کروا دی ہے۔ سندھ پی اے سی نے 33 ارب روپے کی یہ ریکوری جولائی 2024 سے جون 2026 تک کروائی ہے۔ سندھ پی اے سی کے جولائی 2024 سے جون 2026 تک 188 ریکارڈ اجلاس ہوئے اور مختلف محکموں کی 787 آڈٹ پیراز کو سیٹل کیا گیا۔ نثار کھوڑو کے مطبق صارفین سے الیکٹرک سٹی ڈیوٹی کی مد میں وصول 11904 ملین روپے کے الیکٹرک سے ریکور کرائے گئے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پانی کے بلوں کی مد میں مختلف وفاقی و صوبائی اداروں کے ذمے 34۔12594 ملین روپے واجبات وصول کروائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے مختلف محکموں سے 10 ارب روپے ریکور کرائے گئے جبکہ مجموعی طور پر 33 ارب روپے ریکور کروا کر سندھ کے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عوام کے ٹیکس کے پیسوں میں خرد برد اور مالی بے ضابطگیاں برداشت نہیں کرے گی۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ پی اے سی چاہتی ہے تمام محکمے عوام کے ٹیکس کے پیسے عوام کی بھرتی پر خرچ کریں اور جہاں جہاں مالی بے ضابطگیاں ثابت ہوں گی وہاں ایکشن لیا جائے گا۔ پی اے سی سرکاری محکموں کے افسران کی جانب سے آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کے عمل کو برداشت نہیں کرے گی۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ جو محکمے آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہیں کریں گے ان محکموں کے متعلقہ افسران کے خلاف کارووائی ہوگی۔ چیئرمین پی اے سی نے لوکل کونسلز ملازمین کی ریشنلائیزیشن اور تنخواہیں آن لائن کرنے کی ہدایت کر دی۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں تین مرتبہ لوکل گورنمنٹ حکومتوں کی مدت پوری کروائی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں لوکل گورنمنٹ کا نظام ہی موجود نہیں ہے۔ سندھ کے لوکل گورنمنٹ کے نظام پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے صوبے میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ صوبہ نچلی سطح تک لوکل گورنمنٹ کو مضبوط اور بااختیار بنانے کے لیے ہر سال 156 ارب گرانٹ دیتا ہے۔ سندھ حکومت تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کی ریشنلائیزیشن کرے تاکہ جہاں ملازمین کی کمی ہے وہاں پوری ہو سکے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ کے ایم سی کی طرح سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کی SAP سسٹم کے تحت تنخواہیں آن لائن کی جائیں تاکہ تنخواہیں شفافیت کے تحت ملازمین میں تقسیم ہوسکیں۔ سندھ حکومت صوبے بھر کی تمام 1600 یوسیز کو پابند بنائے کہ ہر یوسی اپنے فنڈز میں ماہانہ تین لاکھ روپے کی سولر پلیٹس خرید کر غریب عوام کو مفت فراہم کرے، اس عمل سے ہر ماہ 48 کروڑ روپے کے سولر پینلز غریب عوام کو فراہم ہو سکیں گے۔ آر بی او ڈی ٹو چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ سندھ پی اے سی کو آربی او ڈی ٹو منصوبے پر 10سالوں سے کام بند پڑے ہونے پر تحفظات ہیں۔ آربی او ڈی ٹو کا 273 کلومیٹر طویل منصوبہ 14 ارب روپے سے شروع کیا گیا جو تین مرتبہ روائیز ہوکر 64 ارب تک پہنچ چکا ہے۔ آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر 40ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود کام شروع نہیں کیا جا رہا،سندھ حکومت کنسلٹنٹ ھایر کرکے اس منصوبے کو شروع کرائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل