Tuesday, June 30, 2026
 

ایران سے درآمد کی اجازت ملنے پر ایل پی جی کی قیمت میں مزید بڑی کمی کا امکان

 



مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں بہتری اور عالمی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران سے ایل پی جی درآمد ہونے پر گیس کی قیمت میں مزید نمایاں کمی کا امکان ہے۔ ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد علی حیدر نے بتایا کہ مشرق وسطی کی صورتحال میں بہتری اور ممکنہ عالمی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات 12لاکھ 50ہزار ٹن سے بڑھ کر 20لاکھ ٹن تک پہنچنے اور فی کلوگرام ایل پی جی کی قیمت 210روپے کی سطح پر آجائے گی۔ ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک میں مجموعی طور پر 14 لاکھ ٹن سالانہ ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، جن میں 2لاکھ 50 ہزار ٹن سمندری راستے جبکہ باقی ماندہ 12 لاکھ 50 ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے ملحقہ تین سرحدی راستوں کے ذریعے زمینی راستوں سے درآمد ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں یومیہ 390 سے 460 ایل پی جی باوزر ایران سے آرہے ہیں۔ ان سرحدی علاقوں میں تافتان، گوادر اور مند شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کے مرکبات بیوٹین کی فی ٹن قیمت گھٹ کر 600ڈالر اور پروپین کی قیمت گھٹ کر 500ڈالر فی ٹن کی سطح پر آگئی ہے جس سے جولائی میں ایل پی جی کی سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس بھی 796ڈلر فی ٹن سے گھٹ کر 592ڈالر فی ٹن کی سطح پر آجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں فی کلوگرام ایل پی جی کی قیمت میں بھی 65روپے تا 70روپے کی کمی واقع ہوگی۔ محمد علی حیدر نے بتایا کہ ایران سے کراچی کے لیے ایل پی جی باوزرز کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے لیکن دہشت گردی کے واقعات، خدشات اور امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث مند اور تافتان کے راستے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے باوزرز کی ترسیل متاثر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیشرفت سے ناصرف توانائی کے شعبے کو استحکام ملے گا بلکہ عام صارف کو بھی ریلیف حاصل ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل