Loading
بلوچستان میں مسافر کوچ کے کھائی میں گرنے سے 40 افراد جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہو گئے ہیں، اس حوالے سے ایک زخمی مسافر نے اہم انکشاف کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دانہ سر میں پیش آنے والے کوچ حادثے میں زخمی ہونے والے مسافر نے بتایا کہ ہم کوئٹہ سے پشاور کے لیے بس میں روانہ ہوئے تھے اور ڈرائیور نے مسافروں کو بتائے بغیر بس میں ڈیزل لوڈ کیا تھا۔
مسافر نے بتایا کہ بلوچستان کی آخری ایف سی چیک پوسٹ پر بس سے ڈیزل اتار دیا گیا۔ اس موقع پر ڈیزل کا علم ہونے پر مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔
زخمی شخص نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے کچھ دیر بعد ہی مسافر بس حادثے کا شکار ہو گئی۔حادثے کے بعد ہوش آیا تو ہر طرف زخمی اور لاشیں پڑی تھیں۔ حادثے کا شکار بس میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے۔
تحقیقات کا حکم
دوسری جانب حکومت بلوچستان نے دانہ سر مسافر بس حادثے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون شاہد رند کے مطابق میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو تحقیقات سونپ دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حادثے کے اسباب اور تمام حقائق پر جامع رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔ حکومت نے واقعے کے ہر پہلو کا شفاف اور غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات میں غفلت یا لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ذمہ دار عناصر کا تعین قانون اور حقائق کی روشنی میں کیا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل