Friday, July 03, 2026
 

شہید علی خامنہ ای کے نماز جنازہ میں کتنے افراد کی شرکت متوقع ہے؟ حکام نے بتادیا

 



ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیر و تکفین تاریخی نوعیت کی ہوگئی جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملیں گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا آغاز تہران سے ہوگا اور پھر میت کو جلوس کی صورت میں قُم اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا کے بعد واپس ایران آکر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں لاکھوں افراد پہلے ہی تہران پہنچنا شروع ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر سے زائرین اور ماتمی جلوسوں کی آمد کا سلسلہ پورے زور و شور سے تاحال جاری ہے۔ ایرانی وزارت داخلہ اور مقامی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ صرف تہران میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ مذہبی شہر قم میں بھی 20 لاکھ افراد کی آمد متوقع ہے۔ قم شیعہ اسلام کا اہم ترین تعلیمی اور مذہبی مرکز ہے جہاں دنیا بھر سے دینی طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی تدفین میں تقریباً ایک کروڑ افراد شریک ہوئے تھے تاہم اس بار اس سے بھی زیادہ ہجوم متوقع ہے۔ اسی لیے دارالحکومت تہران میں غیر معمولی سیکیورٹی، ٹریفک پلان اور طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ جن چار شہروں میں علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو جلوس کی صورت میں لایا جائے گا وہاں خصوصی دعائیہ اجتماعات اور تعزیتی مجالس منعقد ہوں گی۔ تہران اور قم کے بعد جنازہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا ان دونوں شہروں کی مذہبی حیثیت کے پیش نظر وہاں بھی ہزاروں زائرین اور مذہبی شخصیات شرکت کریں گی۔ عراقی حکومت نے بھی سیکیورٹی اور انتظامی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بعد ازاں آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ مشہد لایا جائے گا جہاں آیت اللہ خامنہ ای کو امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا اور کم از کم 40 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ مشہد بھی شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام حضرت امام رضاؑ کا مدفن ہے اور خامنہ ای کی جائے پیدائش بھی یہی شہر ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے اس موقع پر 100 سے زائد ممالک کو دعوت دی ہے جبکہ متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اور نمائندے تہران پہنچ چکے ہیں۔ روس، پاکستان، چین، عراق، افغانستان، بھارت، آرمینیا اور کئی دیگر ممالک کے سرکاری وفود تعزیتی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ بعض علاقائی تنظیموں کے نمائندے بھی ایران پہنچے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا اظہار ہوگی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو عوامی حمایت حاصل ہے اور ملک بین الاقوامی سطح پر تنہا نہیں ہے۔ دوسری جانب مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے شرکت کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔ تاہم تہران، قم اور مشہد میں غیر معمولی ہجوم، سخت حفاظتی انتظامات اور ملک گیر سرکاری تعطیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران ان تقریبات کو اپنی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل