Saturday, July 04, 2026
 

اوپن اے آئی کا ٹرمپ انتظامیہ کو حصص دینے پر غور

 



مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو کمپنی میں پانچ فی صد حصص دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف دو افراد کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی نے یہ تجویز آئندہ متوقع ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (آئی پی او) سے قبل حکومت کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دیگر امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں (جن میں اینتھروپک بھی شامل ہے) وہ بھی امریکی حکومت کو اپنی کمپنیوں میں اسی نوعیت کے حصص دینے پر غور کریں۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت مختلف اہم کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا حصص حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے انٹیل میں تقریباً 10 فی صد جبکہ ایم پی میٹیریلز میں 15 فی صد حصص حاصل کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے باعث ممکنہ معاشی اثرات، خصوصاً ملازمتوں میں کمی کے خدشات، پر عوامی تشویش میں اضافے کے بعد اوپن اے آئی کی یہ تجویز حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ریگولیٹری ماحول کو سازگار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم، اوپن اے آئی یا امریکی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل