Tuesday, July 07, 2026
 

حکومت مزید 28 ریاستی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے متحرک ہے، وزیر خزانہ

 



وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجکاری کمیشن کو مزید 28 ریاستی ادارے مختص کیے گئے ہیں، نجکاری کے حوالے سے حکومت متحرک ہے۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے تحت پاکستان بینکنگ سمِٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کا اختتام مضبوط معاشی استحکام کے ساتھ ہوا، بڑی صنعت کی نمو کے سبب جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ ہوئی، ترسیلاتِ زر کے سبب کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال 26ء میں مستحکم رہا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 26ء کی ترسیلاتِ زر 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس کا بھی معاشی استحکام میں اہم کردار رہا ہے، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مالی سال 26ء میں 18.4ارب ڈالر ہوگئے، یورو بانڈز سمیت عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک پاکستان کی رسائی ہوئی، پانڈا بانڈ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل رہے، پانڈا بانڈ جیسی دوسری بڑی مارکیٹ کو کھنگالنے میں تاخیر ہوئی۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 11 آئی پی او ہوئے، نئے سرمایہ کار بالخصوص جین زی اسٹاک مارکیٹ میں دلچسپی لے رہی ہے۔ 2025 کے سیلابوں میں 2022 کی طرح بین الاقوامی مدد طلب نہیں کی، 2025 کے سیلابوں میں اپنے ذرائع سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پایا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں 50 کروڑ سے کم مالیت کے کاروباروں پر سپر ٹیکس کا خاتمہ کردیا ہے، سپر ٹیکس کا خاتمہ چھوٹے کاروباروں کے فروغ کیلئے ناگزیر تھا، کنسٹرکشن سیکٹر کو بجٹ میں ریلیف دیا ہے، زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز کو صفر کردیا گیا ہے، ٹیکس نیٹ کی وسعت کے تناظر میں ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا، ٹیکنالوجی کے فروغ سے ٹیکس نظام میں انسانی روابط کو ختم کررہے ہیں، ہمیں ٹیکس انتظامیہ کے اعتماد میں بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے بلکہ نظام کو سہل بناکر آسانیاں لانا چاہتے ہیں، پاکستان جیسی آبادی کے ملک میں سب کو معقول ٹیکس دینا ہوگا، انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور کو دیکھنا ہوگا کہ ٹرانس شپمنٹ کو کیسے وسعت دینی ہے، گزشتہ 3 ماہ سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ماہوار انفلوز 18کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر ہو چکے ہیں۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز کو سرمائے تک رسائی صرف بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیئے، بڑے کاروباروں کو بھی خوش آمدید کہا لیکن بجٹ میں ایس ایم ایز کیلئے بھی ایک خاص حصہ مختص کیا ہے، حکومت کے قرضوں کو کم ہونا چاہیئے، کوشش ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دیا جائے، نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو بھی آگے قدم بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کیلئے دسمبر 2025 میں ایکسچینج کمپنیوں کو این او سی جاری ہوچکے ہیں، جس طرز پر معیشت آگے بڑھ رہی ہے، کمرشل بینک سائبر سیکورٹی کو یقینی بنائیں، گورنر اسٹیٹ بینک سائبر سیکورٹی کے حوالے سے پیشرفت کریں۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران امریکا جنگ کے بعد ایران کے ساتھ تجارت کے معاملات ابتدائی مراحل میں ہیں، پُر امید ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارت میں اہم پیشرفت ہوگی، پاکستان کیلئے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا اہمیت کا حامل ہے۔ صوبوں کے شکر گزار ہیں کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے انہوں نے وفاق سے تعاون کیا، این ایف سی سے متعلق بحث تاحال جاری ہے۔ پی بی اے کے چیئرمین ظفر مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں کمرشل بینکوں نے متعدد سنگِ میل عبور کیے ہیں، 1953 سے قائم شدہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے دسمبر 2025 میں بیلٹ باکس کے ذریعے ایگزیکٹیو کمیٹی کے انتخابات کروائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے 2 خواتین کو بھی شامل کیا ہے، بینکنگ سیکٹر ایس ایم ایز، زراعت اور ماحولیات پر متحرک انداز میں کام کررہا ہے، پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہے جو سالانہ 1ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔ ظفر مسعود نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں زرعی شعبے کے لیے قرضوں میں 39 فیصد کا اضافہ ہوا، ہاؤسنگ کے قرضوں میں 90 فیصد نمو رہی، ایک سال میں ایس ایم ایز کے قرض داروں کی نمو سالانہ 111 فیصد بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ایس ایم ایز کو جاری قرضوں کی مالیت 80 فیصد بڑھی ہے، اسٹیٹ بینک کی معاونت سے بینکنگ سیکٹر کی افرادی قوت کی تربیت کرنے جا رہے ہیں، اکیڈیمیا سے گزارش ہے کہ ٹریننگ کے حوالے سے بینکوں کو معاونت فراہم کریں۔ ظفر مسعود کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بینکوں نے بجلی کے گردشی قرضوں کو ختم کرنے کیلئے 2400 ارب روپے کے قرضے جاری کیے، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بینکوں نے نجی شعبے کو 300 ارب روپے کے قرض کا اجراء کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل