Loading
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے غلام حسین محسنی اژہ ای کو ایک بار پھر ملک کی عدلیہ کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے باضابطہ حکم نامے میں غلام حسین محسنی اژہ ای کی گزشتہ مدت کے دوران انجام دی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں دوبارہ اس اہم عہدے کی ذمہ داری سونپی۔
حکم نامے میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے غلام حسین محسنی اژہ ای کی ’مخلصانہ اور قابلِ قدر خدمات‘ کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی عدالتی نظام کی بہتری، انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیتے رہیں گے۔
غلام حسین محسنی اژہ ای ایران کی عدلیہ کے سینئر ترین عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی مختلف اعلیٰ سرکاری اور عدالتی مناصب پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی دوبارہ تقرری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایرانی قیادت عدالتی نظام میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک داخلی اور علاقائی سطح پر مختلف سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں ایران کی عدلیہ کو عدالتی اصلاحات، داخلی سلامتی، انسدادِ بدعنوانی اور اہم قانونی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل