Loading
جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر اور بلدیہ عظمیٰ کراچی میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قابل رہائش شہروں کی فہرست میں کراچی کا 170 نمبر پر آنا شرم کا باعث ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی کی قابل رہائش شہروں میں تنزلی تشویش ناک ہے، مرتضیٰ وہاب کے دور میں ہر سال یہ نمبر بڑھ رہا ہے جو ان کی نا اہلی ظاہر کرتا ہے، قبضہ میئر کے دور میں شرم ناک صورت حال یہ بھی ہے کہ کراچی دنیا کا چوتھا ناقابل رہائشی ترین شہر بن گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا رہائش کے لیے 4 بدترین شہروں میں شمار ان کی انتظامی نااہلی اور کے ایم سی میں جاری کرپشن کے نظام کو واضح کرتا ہے، 2021 تک کراچی کا نمبر 134 تھا، مرتضیٰ وہاب کے دور میں 2022 سے مسلسل تنزلی کے بعد 170 نمبر پر آگیا ہے۔
عالمی جریدے دی اکانومسٹ کی گزشتہ روز جاری رپورٹ کے مطابق کراچی 2026 کی عالمی درجہ بندی میں 173 میں سے 170 ویں نمبر پر آیا ہے، جریدے کی 2022 کی عالمی درجہ بندی میں کراچی کا نمبر 134 تھا۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کراچی کی مسلسل تنزلی کی اصل وجہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں بدعنوانی اور نا اہلی کا عروج ہے، پیپلز پارٹی وفاق میں اتحادی ہے اور 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کے پاس ہر طرح کے مالی وسائل ہونے، صوبے پر مسلسل 18سال کی حکمرانی اور 5 سال سے کراچی کی بلدیاتی حکومت بھی ہونے کے باجود کراچی نے تنزلی کا سفر تیزی سے طے کیا ہے۔
کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کے ذریعے کے ایم سی میں بھی صوبے والا سسٹم ہی چل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہروں کی درجہ بندی کرتے ہوئے شہر میں بلدیاتی مسائل، ٹرانسپورٹ، صحت،تعلیم، امن وامان وغیرہ کی صورت حال جانچی جاتی ہے اور جس قدر بدتر صورت حال ہوں اتنے ہی زیادہ نمبر پر وہ شہر آتا ہے، کراچی کا 170 نمبر پر آنا ملک و قوم کے لیے شرم ناک ہے۔
رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ پی پی پی حکومت اور اس کے مسلط کردہ میئر نے قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل