Tuesday, July 07, 2026
 

پاکستانیوں کی پسندیدہ ڈش

 



انسان اور کھانے کا جنم جنم کا ساتھ ہے، جب سے انسان نے اس دنیا میں جنم لیا ہے تب سے یہ کم بخت، بلاخور اور کبھی نہ بھرنے والا پیٹ بھی اسے لاحق رہا ہے۔ اس نے اس کے اندر کیا کیا کچھ نہیں ڈالا ہے لیکن یہ اندھا کنواں نہ کبھی بھرا ہے، نہ بھرے گا۔ خیر پیٹ کا جو قصہ ہے وہ تو چلتا رہے گا، انسان اور اس کا پیٹ ، دونوں ہی آپس میں’’لگے رہو منا بھائی‘‘ ہیں لیکن کبھی کبھی کسی قوم، نسل یا ملک کی وجہ سے خاص خاص قسم کی ’’خوریاں‘‘ بھی مشہور ہوجاتی ہیں، مثلاً بنگلا والے’’چاول مچھی‘‘ کے دلدادہ ہیں، افغانستان وغیرہ والے گوشت خور ہوتے ہیں، چین والے خاکسار لوگ کسی بھی چیز کی ناقدری نہیں کرتے یعنی’’سب کچھ خور‘‘ ہوتے ہیں۔ ترے دہان ’’میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘‘۔ عربستان کے بارے میں ازراہ تفنن کہا جاتا ہے کہ وہاں مرد حضرات زیتون پسند کرتے ہیں کیونکہ زیتون نام اکثر خواتین کے ہوتے ہیں بلکہ ہم نے تو سنا ہے کہ وہ گوشت کے لیے بھی بھیڑ، بکری کو دنبوں اور بکروں اور گائے، اونٹنیوں کو بیل اور اونٹ پر ترجیح دیتے ہیں۔ سبزیوں میں بھنڈی توری کو زیادہ پسند کرتے ہیں، بہ نسبت کدو کریلے کے۔ بلکہ دسترخوان میں بھی ’’اچار‘‘کی جگہ ’’چٹنی‘‘کو جگہ دیتے ہیں اور شربت کی جگہ ’’لسی‘‘ کو پسند کرتے ہیں بلکہ ہم نے کچھ خاص دانائے راز لوگوں سے سنا ہے کہ بعض مرد موت کو بھی اس لیے پسند کرتے ہیں کہ موت آتا نہیں آتی ہے۔ خیر یہ تو دوسرے ممالک اور اقوام کی خوریاں اور کھانے یا پسندیدہ غذائیں ہیں، اپنے پاکستان کی پسندیدہ اور کھائی جانے والی غذا یا ’’کھانا‘‘ کیا ہے؟ یہ معلوم کرنے میں ہمیں بہت محنت کرنا پڑی، دانتوں پسینے آگئے اور بہت سارے اندھے کنوؤں میں بانس ڈالنا پڑے حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ بہت ساری سرکاری اکیڈمیوں کے ڈگری یافتہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تربیت یافتہ ہیں بلکہ زیرتربیت رہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سارے لوگ اپنے سارے پسندیدہ کھانے اور خوریاں رکھتے ہیں، کہیں پر گوشت کو جزو ایمان سمجھا جاتا ہے تو کہیں پر دالوں کو۔ کہیں سجی معروف ہے تو کہیں کڑاہی، کہیں بریانی کی دھوم ہے تو کہیں موٹے چاول اور گوشت حلیم نما ڈش کی۔ اور ہمیں صرف ایک ’’کھانے‘‘ کا پتہ لگانا تھا جسے قومی کھانا قرار دیا جاسکے اور آخری ہمیں اپنی محنت کا ’’پھل‘‘ اور ہمارے خچرراہ یعنی ٹٹوئے تحقیق کو ’’گھاس‘‘ مل گئی، پاکستانیوں کا مرغوب ترین ’’کھانا‘‘ ہمیں مل گیا لیکن پاکستانی بہت نرالے لوگ ہیں اس لیے یہ صرف وہ کھانے نہیں کھاتے جو منہ سے کھائے جاتے ہیں اور پیٹ میں جاتے ہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ کھاتے ہیں مثلاً یہ چوٹ بھی ’’کھاتے‘‘ ہیں، ٹھوکر بھی کھاتے ہیں اور’’دھوکا‘‘ بھی بڑی رعبت اور خوش ہوکر بہت جوش وخروش سے کھاتے ہیں اور یہی ان کا پسندیدہ اور قومی’’کھاجا‘‘ ہے۔ قدم قدم پر، ہر جگہ، ہر طرف ’’دھوکے‘‘ کے ہوٹل، ریستوران یہاں تک کہ ڈھابے کھلے ہوئے ہیں، طرح طرح کی ڈشیں اور پکوان بنائے جاتے ہیں اور لوگ جوق درجوق آکر کھاتے ہیں، پھر کھاتے ہیں، پھر کھاتے ہیں، پھر پھر کر کھاتے ہیں اور شکم سیر ہوکر جاتے ہیں، پھر آنے کے لیے۔ مزید ’’نئے نئے‘‘ دھوکے کھاتے ہیں، کھاتے چلے جاتے ہیں۔ اب یہ تو بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ جہاں ایک چیز کے کھانے والے ہوتے ہیں وہاں کھلانے والے بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور پاکستانی سرزمین تو زرخیز بھی بہت ہے۔ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘ اس لیے یہاں ’’کھانے والوں‘‘ اور کھلانے والوں کی بھرمار ہے۔ نئے نئے’’شف‘‘ آتے ہیں، نئے نئے پکوان لانچ کرتے ہیں اور عوام کو کھلاتے ہیں، ان میں جو بڑے بڑے اسٹارپلس ہوٹل ہیں ان کو پارٹیاں، جماعتیں، لیگ اور تحریک وغیرہ کہتے ہیں، اس سے ذرا کم درجے پر جو ریستوران اور فوڈ اسٹریٹ ہیں ان کو’’تنظیمیں‘‘ کہتے ہیں اور نچلے درجے میں وہ ڈھابے ہیں جو کسی نہ کسی طبقے کی فلاح و بہبود کے ڈھول بجاتے ہیں۔ چونکہ عوام میں ذوق دھوکہ خوری بہت زیادہ ہے اور دھوکے کھانے میں پون صدی کا تجربہ رکھتے ہیں اس لیے کسی بھی نام سے کوئی بھی ڈش یا پکوان ہو، اس پر ہجوم ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ رش ان پکوانوں پر نظر آتا ہے جس کو ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ کا ٹچ دیا جاتا ہے۔ ایک ہی ’’آلو‘‘ سے ہر کوئی الگ الگ پکوان بناتا ہے۔ آلو قیمہ، آلو گوشت، آلو گوبھی، آلو پالک، آلو چپیس، فرنچ فرائی کٹلس اور یوٹینو چپس، ان آلو والے ریستورانوں پر سب سے زیادہ رش دیکھنے کو ملتا ہے، کھانے اور کھلانے والوں کا بڑا ہجوم نظر آتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل