Loading
کسی ملک کی ترقی کا انحصار صرف GDP پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اس ملک کا متوسط طبقہ (مڈل کلاس) کتنا مضبوط اور کتنا بڑا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک مثلاً جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور کینیڈا میں مڈل کلاس کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہی طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے، صنعت وتجارت کو سہارا دیتا ہے، تعلیم اور ہنر پر سرمایہ کاری کرتا ہے، یوں معیشت کو استحکام بخشتا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مڈل کلاس کی شرح 46 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 35 فیصد رہ گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران متوسط طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوا ہے۔ ایک عام متوسط گھرانے کی آمدنی کا بڑا حصہ گھر کے کرائے، بجلی، گیس اور پانی کے بلوں، بچوں کی اسکول فیس، علاج معالجے، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیائے خورونوش پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بہت سے تنخواہ دار خاندانوں کے لیے بچت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے جب کہ بعض خاندانوں کو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً 82,179 روپے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم میں ایک اوسط خاندان کا ماہانہ گزارا ممکن ہے؟ اس وقت ایک متوسط طبقے کے گھر کا بجلی کا بل 20 سے 30 ہزار روپے تک آتا ہے جب کہ گھر کا کرایہ تقریباً 50 ہزار روپے ہے۔
یوں صرف کرائے اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی ہی پوری آمدنی کو ختم کر دیتی ہے۔ ایسے میں کھانے پینے، علاج معالجے، ادویات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں؟ گزشتہ چند برسوں میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں زندگی کی تقریباً تمام ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ چنانچہ متوسط طبقے کے لیے متوازن گھریلو بجٹ بنانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
پاکستان میں اس وقت نچلا طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس طبقے کے بہت سے افراد حکومتی مالی امداد، سماجی تنظیموں کی معاونت اور فلاحی دسترخوانوں سے استفادہ کر لیتے ہیں لیکن مڈل کلاس کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ اس طبقے کی عزت نفس اسے امدادی پروگراموں یا خیراتی دسترخوانوں سے فائدہ اٹھانے سے روکتی ہے۔ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا بلکہ محدود تنخواہ میں انتہائی مشکل سے گزارا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طبقے کو اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانا بھی ضروری ہوتا ہے مگر تعلیمی اداروں کی فیسیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسی طرح علاج معالجے کے لیے نجی اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے اخراجات برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ملازمت پر مناسب لباس پہن کر جانا، اپنی سماجی عزت برقرار رکھنا اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی اس طبقے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سفر کرنا بھی انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ بہت سے ملازمین کے لیے روزانہ دفتر آنا جانا ایک معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک شخص جو موٹرسائیکل رکھتا ہے، اب اس کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کروا سکتا۔ روزانہ ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ ایک متوسط طبقے کا فرد اپنی خستہ حال موٹرسائیکل پر دو یا تین بچوں کو بٹھا کر سفر کر رہا ہوتا ہے۔ موٹرسائیکل میں نہ مناسب لائٹس ہوتی ہیں، نہ سائیڈ مرر اور نہ ہی چین کور۔ صرف اس لیے کہ وہ رکشے یا ٹیکسی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ حکومت متوسط طبقے کو کس طرح حقیقی ریلیف فراہم کر سکتی ہے؟ سب سے موثر حل یہی ہے کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی خصوصاً آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے بلکہ جہاں ممکن ہو، ان میں کمی کی جائے۔ آٹا گھر میں موجود ہو تو انسان سادہ روٹی بھی کھا لیتا ہے لیکن اگر آٹا ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ ایسے بنیادی مسائل ہیں جن پر حکومت کو فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
متوسط طبقہ مہنگائی سے کس قدر متاثر ہوا ہے، اس کا اندازہ ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔ گریڈ 16 کے ایک سرکاری ملازم کو 2014 سے ماہانہ پانچ ہزار روپے کنوینس الاؤنس مل رہا تھا، جسے جولائی 2016 میں بڑھا کر 7,500 روپے کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ 2018 میں پٹرول تقریباً 95 روپے فی لیٹر تھا جب کہ آج اس کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ مسئلہ صرف پٹرول کا نہیں بلکہ 2018 کے بعد مجموعی مہنگائی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح ایک متوسط طبقے کا فرد جو 2018 میں 120 گز کے مکان کا 17 ہزار روپے کرایہ ادا کرتا تھا، آج اسی مکان کا کرایہ 45 سے 50 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو اضافہ ہوتا بھی ہے وہ ہر ملازم کو نہیں ملتا۔ آج بھی صرف اسکولوں کے اساتذہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بڑی جامعات کے اساتذہ بھی اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، اگر نجی شعبے میں کام کرنے والوں کی بات کی جائے تو ان کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب ہے کیونکہ وہ ملازمت سے نکالے جانے کے خوف سے اپنے حقوق کے لیے آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔
بہت سے متوسط گھرانوں نے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کے لیے اپنی گاڑیاں فروخت کر دیں تاکہ تعلیمی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ آج ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جنھوں نے صرف فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں سے نکال لیا ہے۔ مڈل کلاس کا سکڑنا کوئی معمولی مسئلہ نہیں، اگر متوسط طبقہ کمزور ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ خریداری میں کمی آتی ہے، چھوٹے کاروبار متاثر ہوتے ہیں، نئی سرمایہ کاری سست پڑ جاتی ہے، تعلیم اور صحت پر اخراجات کم ہو جاتے ہیں اور ہنر مند افراد بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔
دنیا کے تقریباً تمام ماہرین معاشیات اور سماجیات اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے محلات، بلند وبالا عمارتوں یا محض مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں نہیں بلکہ اس کے مضبوط متوسط طبقے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی طبقہ معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے، نئی صنعتوں کو فروغ دیتا ہے، اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرتا ہے اور ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قدیم روم سے لے کر جدید جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور چین تک ہر کامیاب معیشت کے پیچھے ایک مضبوط متوسط طبقہ موجود رہا ہے۔ اس کے برعکس جہاں مڈل کلاس سکڑنے لگتی ہے وہاں معاشی ناہمواری، سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام جنم لینے لگتے ہیں۔ پاکستان بھی آج اسی نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں متوسط طبقے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی کریں تاکہ رہائش، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات میں انھیں حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے، اگر مڈل کلاس کو سہارا نہ دیا گیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف معیشت بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل