Tuesday, July 07, 2026
 

کوآرڈی نیشن کے لیے وفاقی ادارے کی ضرورت

 



وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کوآرڈی نیشن کے لیے اگر کوئی وفاقی ادارہ بنتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہے اور سرکاری اداروں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا یہ بیان بروقت اور صوبوں کی اصلاح، صوبوں کو آئین پر مکمل عمل، باہمی شکایتوں کی نشان دہی اور ازالے کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ حال ہی میں نہری پانی کی تقسیم پر سندھ اور بلوچستان کا باہمی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں پیپلزپارٹی کی اپنی حکومتیں ہیں جن کا باہمی تنازع منظرعام پر آ نے سے قبل پی پی کی قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے دونوں وزرائے اعلیٰ کو اس تنازع کے حل کے لیے ایک جگہ جمع کرکے بٹھاتے اور پانی کے اس شدید تنازع کا حل نکالتے مگر ایسا نہیں ہوا۔  بلوچستان کو کوٹے سے کم پانی فراہم کیے جانے کیباتیں ہورہی ہیں، قانونی چارہ جوئیکی بات بھی سننے میں آرہی ہے، اگر پی پی قیادت خود یہ تنازع طے کرا دیتی تو نہ یہ شکایت پیدا ہوتی ۔ پی پی قیادت کا فیصلہ دونوں صوبوں کے لیے بھی قابل قبول ہوتا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ سندھ کو پانی کے مسئلے پر پنجاب سے ناانصافی کی بہت زیادہ شکایات رہی ہیں مگر بلوچستان کی سندھ سے پانی کی شکایت کم رہی ہے ۔ کے پی کو کئی ماہ سے پنجاب سے گندم و آٹا فراہم نہ ہونے کی مسلسل شکایات رہی ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں اور باہمی سیاسی مخالفت کے باعث ایسی شکایات بڑھا چڑھا کر بھی کی جاتی ہیں تاکہ اپنے عوام کو مطمئن رکھا جاسکے۔ صوبوں کی باہمی شکایتیں بعض دفعہ سیاسی الزام تراشی بن جاتی ہیں، جب وہاں مختلف سیاسی حکومتیں ہوں۔ پنجاب کو وفاق سے اتنی شکایتیں نہیں ہیں کہ جتنی سندھ اور کے پی کو ہیں جب کہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت ہے جب کہ جب وفاق میں اور سندھ میں 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں تو سندھ کو وفاق سے شکایتیں نہیں ہوتی تھیں اور یہ قدرتی امر ہے کہ وفاق میں جس پارٹی کی حکومت ہو وہ صوبوں میں اپنی اپنی پارٹی کی صوبائی حکومت کا خیال رکھتی ہیں اور اپنی حکومتوں کو نوازتی ہیں جس طرح ماضی میں (ن) لیگ نے پنجاب، پیپلز پارٹی نے سندھ اور پی ٹی آئی نے کے پی کو نوازا تھا۔ 2018 میں پنجاب، کے پی اور وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومتیں تھیں تو انصاف کے نام پر بننے والی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے پنجاب سے زیادہ کے پی کو نوازا تھا اور سندھ کی حکومت وفاقی حکومت سے شکایت کرتی رہی کہ سندھ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے جب کہ ناانصافی کے باوجود پنجاب کو وفاق میں اپنی حکومت سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ بلوچستان ملک کا واحد اکلوتا صوبہ ہے جہاں اکثر مخلوط حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں مگر بلوچستان وفاق سے ایسی شکایات کم ہی کرتا ہے جیسی دوسرے صوبے کرتے رہے ہیں۔ ویسے بھی پسماندگی کے باعث وفاق ہی نہیں بلکہ دیگر صوبے خصوصاً پنجاب، بلوچستان سے زیادہ ہمدردیاں کرتا آیا ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کی بھی حکومت رہی ہے۔ صدر آصف زرداری نے تو اپنی وفاقی حکومت میں ناانصافیوں پر بلوچستان سے معافی بھی مانگی تھی مگر بلوچستان کے حالات اور المیہ یہ ہے کہ ہر وفاقی حکومت بلوچستان کے سلسلے میں بے بس رہی اور ناانصافی بھی کرتی رہی۔ بلوچستان کے حالات بھٹو دور میں خراب ہوئے تھے جو اب تک بہتر نہیں ہوئے مگر جنرل مشرف کے برعکس جنرل ضیا الحق کا دور حکومت بلوچستان کے لیے قدرے بہتر رہا اور حالات بھی اتنے خراب نہیں تھے۔ وفاق سے کوآرڈی نیشن کے لیے کسی وفاقی ادارے کی جو تجویز وزیر اعلیٰ سندھ نے دی ہے، دوسرے صوبوں کو بھی اس کی حمایت کرنی چاہیے جو ایک مثبت تجویز ہے جس سے پنجاب اور بلوچستان کو تو اتفاق ہو سکتا ہے مگر کے پی سے توقع نہیں، جس کی واحد وجہ باہمی سیاسی مخالفت ہے۔ ملک میں بین الصوبائی وفاقی وزارت بھی موجود ہے جس کا وفاقی وزیر ہمیشہ سیاسی رہا ہے جو کبھی اپنی پارٹی کی مخالفت نہیں کرے گا اور اسی سیاست کی وجہ سے یہ توقع بھی نہیں کہ وہ غیرجانبدار رہ کر منصفانہ مؤقف اختیار کرے گا اور جس صوبے کو جائز شکایت ہو، اس کی حمایت کرے گا۔ ملک میں بھٹو صاحب کے دور میں بیک وقت چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہیں مگر بلوچستان کو اس کے حقوق ملے نہ انصاف، جس کی وجہ وہاں کی سیاسی پارٹیوں اور سیاسی رہنماؤں کی ذاتی مفادپرستی بھی رہی جنھوں نے بلوچستان کے لیے کبھی مؤثر آواز نہیں اٹھائی، جو ان کا حق تھا۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی بلوچستان حکومت میں وزیر اعلیٰ نے صوبے میں کچھ بہتری لانے کی کوشش کی تھی مگر باہمی معاہدے کے تحت (ن) لیگ وہاں اپنا وزیر اعلیٰ لے آئی تھی۔ بلوچستان میں جتنی سیاسی حکومتیں سیاست کی وجہ سے تبدیل ہوئیں اتنی کسی اور صوبے میں نہیں ہوئیں۔ وفاقی حکومت کو صوبوں کی مشاورت سے ایسا کوآرڈی نیشن ادارہ بنانا چاہیے جس کا سربراہ اور ارکان غیرسیاسی، اچھی شہرت کے حامل اور غیرجانبدار ہوں جو منصفانہ طور پر صوبوں کی باہمی شکایات کا حل نکال کر ایمانداری سے صوبوں کو مطمئن کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں اور وفاق اور صوبوں کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی درست اور ایسی نشاندہی کرکے مسئلے حل کرائیں جس پر تمام صوبے مطمئن ہوں اور آیندہ کسی بھی صوبے کو باقی صوبوں سے اور تمام صوبوں کو وفاق کے ساتھ شکایتیں نہ رہیں۔ 18 ویں ترمیم نے وزرائے اعلیٰ کو بادشاہ یا آمر قرار نہیں دیا کہ وہ اپنے صوبے میں اور ملک میں کسی صوبے سے ناانصافی کریں اور سب کو ان کے آئینی حقوق دیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل