Loading
ریاستوں کی زندگی میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جب بندوق کی آواز سے زیادہ اہم اس سوال کی گونج بن جاتی ہے کہ قوم اپنے وجود، اپنی سمت اور اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ جنگ اور امن کے درمیان پھیلا ہوا یہی فاصلہ دراصل قومی شعور کا امتحان ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہریں، سرحد پار سے منظم تخریبی سرگرمیاں، اطلاعاتی جنگ کے پیچیدہ ہتھکنڈے اور معاشی استحکام کو نشانہ بنانے والی پوشیدہ حکمت عملیاں اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ اکیسویں صدی کے تنازعات اب محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے۔
آج ریاستوں کو ایک ایسے ہمہ جہت چیلنج کا سامنا ہے جس میں اسلحہ، بیانیہ، معیشت، سفارت کاری اور خفیہ کارروائیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کڑیاں بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا یہ موقف کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں، درحقیقت قومی سلامتی کے ایک وسیع تر تصور کی نشاندہی کرتا ہے جسے سمجھنا موجودہ حالات میں ناگزیر ہے۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں شہریوں، فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اگرچہ متعدد بڑے آپریشنوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑی گئی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ آج ملک کو روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ پراکسی جنگ، ہائبرڈ وارفیئر اور ریاست مخالف نیٹ ورکس کی شکل میں ایسے چیلنجز درپیش ہیں جو بظاہر منتشر دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں ایک منظم حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کے مباحث میں اب صرف سرحدوں کے دفاع کی بات نہیں کی جاتی بلکہ ریاستی اداروں، معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے تحفظ کو بھی مساوی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جس انداز میں دشمن کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کیا، وہ دراصل پاکستان کو درپیش بدلتے ہوئے سیکیورٹی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بیان کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک داخلی مسئلہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک منظم بیرونی منصوبہ بندی سے جوڑا گیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب کسی ملک کی معاشی ترقی کا سفر تیز ہونا شروع ہوتا ہے تو بعض مخالف قوتیں براہِ راست تصادم کے بجائے غیر ریاستی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس حکمت عملی کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرنا، عوام میں بے یقینی پیدا کرنا اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنا بھی ہوتا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں اور ان کے جواب میں ہونے والے سیکیورٹی آپریشنز نے ایک بار پھر یہ حقیقت نمایاں کر دی ہے کہ دشمن کی توجہ پاکستان کے اس صوبے پر مرکوز ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور علاقائی رابطہ کاری کے اعتبار سے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان نہ صرف پاکستان کے ساحلی اور معدنی مستقبل کا مرکز ہے بلکہ یہ خطے میں تجارتی گزرگاہوں اور اقتصادی منصوبوں کا بھی اہم حصہ ہے۔ چنانچہ یہاں بدامنی پیدا کرنے کی ہر کوشش دراصل صرف ایک صوبے کو نہیں بلکہ پورے قومی ترقیاتی وژن کو نشانہ بناتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے بلوچستان میں چند روز کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب بھی نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا پہلا وار ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور غیر مسلح طبقات پر ہوتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا دوسرا رخ بھی قابلِ توجہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون اس بات کا مظہر ہے کہ دشمن کی توقعات کے برعکس مقامی آبادی اور ریاست کے درمیان تعلق مضبوط ہوا ہے۔ دنیا بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے کامیاب تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی ریاست صرف عسکری قوت کے ذریعے مستقل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، جب تک کہ عوام اس جدوجہد میں شریک نہ ہوں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کی کارروائیوں کا وقت اور نوعیت اکثر ایسے مواقع پر سامنے آتی ہے جب ملک معاشی استحکام، سفارتی سرگرمیوں یا ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مثبت پیش رفت کر رہا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا دہشت گردی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ ہے یا اسے ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی کھیل کے حصے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ علاقائی رقابتیں اکثر براہِ راست جنگ کے بجائے بالواسطہ ذرائع اختیار کرتی رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی جانب سے بیرونی سرپرستی کے الزامات محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ ایک ایسے سیکیورٹی تناظر کی عکاسی کرتے ہیں جسے نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت اور اسٹرٹیجک بصیرت کی ضرورت پر جو زور دیا، وہ خاص طور پر اہم ہے۔ جدید دنیا میں طاقت صرف فوجی وسائل کے حجم سے نہیں ناپی جاتی بلکہ فیصلہ سازی کی صلاحیت، ادارہ جاتی استحکام، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، انٹیلی جنس استعداد اور قومی یکجہتی سے بھی متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ تعلیمی، اقتصادی اور سماجی شعبوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موزوں ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو قومی ترقی، اچھی حکمرانی اور سماجی استحکام کے ساتھ جوڑ کر دیکھے۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی بریفنگ کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ اس میں دہشت گردی کو محض چند منتشر حملوں کا سلسلہ قرار دینے کے بجائے ایک منظم اور مربوط منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس نقطہ نظر کا تقاضا ہے کہ ریاست بھی وقتی ردِعمل کے بجائے طویل المدت قومی حکمت عملی اختیار کرے، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالی معاونت کے ذرائع کی بیخ کنی، سائبر نگرانی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف موثر قانونی کارروائی کو یکساں اہمیت دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے کو علاقائی سیاست کے چشمے سے دیکھنے کے بجائے بین الاقوامی امن کے تناظر میں پرکھے، اگر کسی بھی ریاست کی سرزمین دوسرے ملک میں خونریزی کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا بیرونی خفیہ نیٹ ورک دہشت گرد گروہوں کو وسائل اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے پیشِ نظر پاکستان کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر موثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔
انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر آئی ایس پی آر کا ردِعمل بھی جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی فضا کی نشاندہی کرتا ہے۔ خطہ پہلے ہی ایٹمی صلاحیت رکھنے والی دو بڑی ریاستوں کے درمیان عدم اعتماد کا شکار ہے۔ ایسی صورتحال میں جارحانہ بیانات اور جنگی جنون نہ صرف سفارتی ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ پاکستان کا یہ کہنا کہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازعے کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جائے، دراصل خطے میں استحکام کے تقاضوں کی یاد دہانی ہے۔ جنگ کا تصور اب صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہا؛ اس کے معاشی، تجارتی، سفارتی اور انسانی اثرات پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدالتی نظام تر، پولیس پیشہ ور، سرحدی نگرانی موثر، مالیاتی نیٹ ورک شفاف اور سیاسی قیادت متحد نہ ہو اس عفریت پر قابو پانا مشکل امر ہے۔
پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں، مگر دشمن نے اپنی حکمت عملی بدل لی ہے۔ اب چھوٹے گروہ، مقامی سہولت کار، سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور سرحد پار رابطے مل کر ایک ایسا جال بناتے ہیں جس کا توڑ صرف بندوق سے ممکن نہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ فوج قوم کی حمایت کے ساتھ پراکسی عناصر کے ٹھکانوں کا خاتمہ یقینی بنائے گی، اسی وسیع تر تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قومی سلامتی ایک مشترکہ ذمے داری ہے۔ ریاستی اداروں کی قوت اس وقت بڑھتی ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کی جان، روزگار اور مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ یہی اعتماد دہشت گردی کے خلاف سب سے موثر دفاع بنتا ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان اپنی داخلی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی وقار کی نئی عمارت تعمیر کر سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل