Loading
حالیہ امریکا ایران جنگ اور اس کے بعد عبوری امن معاہدہ کی بنیاد پر پاکستان نے جو سفارت کاری کے محاذ پر عالمی اور علاقائی سطح کی سیاست میں اپنے لیے جگہ پیدا کی ہے وہ ہماری سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کی بقا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ ایک عمومی رائے یہ ہوتی ہے کہ اگر آپ عالمی سیاست میں اپنے لیے جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو داخلی اور پھر علاقائی سیاست میں مستحکم کریں۔
اسی نقط کو بنیاد بنا کر عالمی سیاست آپ کے لیے نئے امکانات کو پیدا کرتی ہے۔سفارت کاری کا محاذ کوئی آسان کھیل نہیں اور اس کے لیے ہر سطح پر ہمیں اپنے کارڈ یا سیاسی اور سفارتی حکمت عملیوں کو مختلف بنیادوں اور جہتوں کی صورت میں ترتیب دینا ہوتا ہے ۔پاکستان نے کیونکہ امریکا اور ایران جنگ کے خاتمہ میں ثالثی یا سہولت کار کا کردار ادا کیا تو اس نے جوابی ردعمل میں پاکستان کے سیاسی قد کاٹھ میں بھی اضافہ کو ممکن بنایا اور اب دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔یہاں ہماری سیاسی اور بالخصوص عسکری سطح کی قیادت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے غیر معمولی اقدامات نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا۔بہت سے سیاسی پنڈتوں کے بقول حالیہ امریکا ایران جنگ کے بعد پاکستان عالمی اور خطہ کی سیاست میں ایک نیا ابھرتا ہوا بروکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
دنیا اور علاقائی ممالک پاکستان کے کردار کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کی پوزیشن میں نہیںہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے اس وقت پاکستان چین اور روس کے ساتھ مل کر خطہ کی سیاست میں ایک نیا سیکیورٹی پلان بھی ترتیب دے رہا ہے اور حالیہ پاکستان،سعودیہ ،مصر، ترکیہ وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا تاکہ علاقائی سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے ۔ان معاملات میں سعودی عرب اور قطر بھی ہمارے ساتھ ہے ۔سعودی عرب اس عمل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس وقت اہم بات پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی ہیں جس میں بہت زیادہ اعتماد سازی اور گرم جوشی دیکھنے کو مل رہی ہے جو یقیناً ہماری داخلی سیاست کے لیے مثبت پہلو ہے ۔
اسی طرح یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران تصادم کو روکنے میں علاقائی ممالک کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے اور اس عمل میں پاکستان کو خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ بھارت اور افغانستان کا باہمی گٹھ جوڑ بنیادی طور پر پاکستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔افغانستان سے بگڑتے ہوئے تعلقات نے ہمارے لیے بہت سی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس وقت علاقائی سیاست میں سب سے بڑا چیلنج ہی افغانستان کا ہے اور یہ ہماری داخلی سیاست کی ضرورت ہے کہ افغانستان سے تعلقات معمول پر آئیں۔اگر افغانستان کا رخ بھارت کی طرف ہے تو یہ اس کا حق ہے لیکن یہ تعلقات پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے۔
پاکستان اس وقت چین،روس،ترکیہ ،سعودی عرب،قطر اور امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات پر ہے ۔اس لیے اسے افغانستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے ان بڑے ممالک کی عملی حمایت درکار ہے ۔افغانستان اور پاکستان کے مذاکرات جو سعودی عرب یا قطر اور ترکی یا چین میں ہوئے ہیںاس کے تسلسل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان سے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے ہماری داخلی سیکیورٹی کا نظام متاثر ہورہا ہے اور ہمیں اپنے دو صوبوں میں سنگین سیکیورٹی اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے۔
بھارت کا موجودہ طرز عمل پاکستان سے بہتر تعلقات کا نہیں ہے اور اسی بنیاد پر وہ افغانستان کو بھی پاکستان کی مخالفت کے کارڈ کے طور پر کھیلنا چاہتا ہے ۔ہمیں بھارت کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ ہمارے افغانستان سے تعلقات بہتر طور پر آگے بڑھ سکیں۔اگر پاکستان افغانستان سے تعلقات کی بہتری میں دیگر ممالک کی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور باقی ممالک کی مدد سے افغانستان پر دباو ڈالنے میں کامیاب ہوتا ہے تو ایک طرف افغانستان سے ہمارے تعلقات کی بہتری تو دوسری طرف ہم افغانستان کو بھارت کی مکمل حمایت سے دور رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اگر اپنے داخلی مسائل کو حل کیے بغیر آگے بڑھنے یا ترقی کے نئے امکانات کو ممکن بنانے کی کوشش کرے گا تو ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔جو ریاست داخلی مسائل پر پردہ ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اس میں کامیابی کے امکانات محدود ہوتے ہیں۔ہمیں علاقائی تعلقات کی نئی جہتوں کو آگے بڑھانے کے لیے سفارت کاری کے محاذ پر لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی درکار ہے اور سفارت کاری کا یہ عمل مستقل بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔اس کے لیے ہمیں سفارت کاری کے محاذپر بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور بالخصوص دنیا میں موجود ہمارے سفارت خانوں اور سفارت کاروں کو بہت کچھ سکھانا ہوگا۔
پاکستان موجودہ اچھے حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی حکمت عملیوں کو موثر بنیادوں پر ترتیب دے جو ہمیںعلاقائی سمیت داخلی سطح کی سیاست میں بطور ریاست مضبوط اور مستحکم بناسکے۔کیونکہ اگر پاکستان داخلی طورپر مضبوط نہیں ہوتا تو جو نئے امکانات ابھر رہے ہیں ان سے بہت زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ اس وقت عالمی اور علاقائی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں یا نئے بلاکس بن رہے ہیں ان میں ہم خود کو کہاں کھڑا رکھ سکیں گے۔خود خلیجی ممالک کا امریکا پر بھروسہ کم ہورہا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اب امریکا پر ان کا حد سے بڑھتا ہوا انحصار ان کی داخلی سیاست کے لیے بھی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
ایسے میں دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں امریکا اور چین شامل ہیںاس کے ساتھ ہم خود کو کس حد تک جوڑ سکیںگے ۔پاکستان کو اس وقت جو نئے مواقع ملے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیںملتی اور یہ غیر معمولی پزیرائی ہے جو پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں ملی ہے۔اس لیے اس سے فائدہ اٹھانے ہی میں ہماری سیاسی معاشی اور سیکیورٹی کی بقا ہے۔ جب ہم دہشت گردی کی ایک داخلی اور علاقائی جنگ سے بھی دوچار ہیں تو ایسے میںعلاقائی سیاست کا استحکام اور بالخصوص دوطرفہ تعاون اور دہشت گردی سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی کا میکنزم ہمیں داخلی سیاست کے معاملات میں مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل