Loading
ایک مشہور اسپتال میں شوگر کے ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی، میں نے فائل آگے رکھ دی اور انھیں بتایا کہ میری فاسٹنگ کی شوگر بڑھی ہوئی ہے۔ نیز یہ کہ مجھے بھوک بالکل نہیں لگتی اور جسمانی کمزوری بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے جھٹ پٹ ایک پرچہ بنایا، اس پر کچھ لکھ کر مجھے دیا اور کہا کہ یہ سب ٹیسٹ کروا کر آئیں اور جو دوائیں آپ کھا رہی ہیں انھیں فی الفور بند کر دیں اور جو دوائیں میں لکھ کر دے رہا ہوں انھیں اسی اسپتال کے میڈیکل اسٹور سے لے لیں اور آج ہی سے شروع کر دیں۔
میں نے کہا کہ ’’ڈاکٹر صاحب! یہ سب دوائیں تو شوگر اور بلڈ پریشر کی ہیں؟‘‘ کہنے لگے ’’آپ کو دوائیں غلط دی گئی ہیں، اس لیے آپ کی فاسٹنگ کی شوگر کم نہیں ہو رہی۔‘‘ میں نے کہا کہ’’ یہ دوائیں بھی اسی اسپتال کے سینئر ڈاکٹر نے دی تھیں، جو برابر کے کمرے میں بیٹھے ہیں۔‘‘ تب وہ بولے کہ’’ ٹھیک ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ دوائیں آپ کے لیے صحیح ہیں‘‘ لہٰذا میں ٹیسٹ کی پرچی لے کر نیچے آئی تو لیبارٹری والوں نے کہا کہ ’’کل آئیے، آپ کے چھ ٹیسٹ ہیں اور سب چودہ گھنٹے کی فاسٹنگ کے ہیں۔‘‘
کافی دیر ہو چکی تھی، گرمی بہت زیادہ تھی تو میں گھر آئی کہ دوائیں گھر کے قریبی میڈیکل اسٹور سے لے لوں گی کیونکہ اس میڈیکل اسٹور کی شہرت بہت اچھی ہے۔ یہاں ایک نمبر دوائیں ملتی ہیں۔ اگلے دن میں نے اس میڈیکل اسٹور سے دواؤں کا پتا کیا تو ان کے پاس شوگر کی صرف ایک دوائی تھی، کاؤنٹر پہ موجود شخص نے کہا کہ جس اسپتال سے آپ نے چیک اپ کروایا ہے اسی کے میڈیکل اسٹور سے ملیں گی، میں اسپتال چلی گئی، سارے ٹیسٹ کروائے اور دوائیں لے کر نیچے اتری تو کسی نے مجھے آواز دی ’’میڈم! ذرا سنیے۔۔۔!‘‘ میں نے پلٹ کر دیکھا تو میرا ایک سابقہ اسٹوڈنٹ آفتاب کھڑا تھا، وہ اپنی بیوی کو لے کر آیا ہوا تھا، بی ایس سی کرنے کے بعد وہ ایک دواؤں کی فرم میں میڈیکل ریپ کے طور پر ملازم ہو گیا تھا، وہ اکثر مجھے فون کرکے خیریت معلوم کرتا تھا، دوران گفتگو جب میں نے اسے بتایا کہ دوائیں اسی اسپتال میں ملیں، کہیں اور دستیاب نہ تھیں، تو وہ بولا ’’میڈم! یہ سب اسپتال والوں اور دوا ساز کمپنیوں کا اور ڈاکٹروں کا گٹھ جوڑ ہے، دوا ساز کمپنیاں اپنے نمائندوں کو ڈاکٹروں کے پاس مختلف آفرز دے کر بھیجتی ہیں کہ اگر انھوں نے ان کی کمپنی کی بنی ہوئی دوائیں نسخوں میں لکھ کر دیں تو انھیں بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ آفرز بڑی بڑی ہوتی ہیں، ان میں غیر ملکی دورے اور نہایت قیمتی تحائف۔ اس کے علاوہ یہ دوا ساز کمپنیاں اسپتالوں کے مالکان سے بھی ساز باز کرتی ہیں، انھیں اپنی کمپنی کی دوائیں سستی دیتی ہیں، اسی لیے جس ڈاکٹر کے پاس مریض جاتے ہیں، اس کی لکھی ہوئی دوائیں وہیں قریبی میڈیکل اسٹور سے ملتی ہیں اور اسپتال کے ڈاکٹروں کی لکھی ہوئی دوائیں صرف اسپتال کے میڈیکل اسٹور سے ملتی ہیں۔‘‘
میں نے کہا کہ’’ آفتاب! میں نے اس بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، آج تم نے تصدیق کر دی‘‘ تو وہ بولا ’’میڈم! یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے، اسی لیے ایک ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوائیں اور ٹیسٹ دوسرا ڈاکٹر ریجیکٹ کر دیتا ہے، بہت ہی کم ڈاکٹر ایسے ہوتے ہیں جو اس مافیا کا حصہ نہیں ہیں، بعض میڈیکل اسٹور خود ڈاکٹروں کے ہوتے ہیں اور بعض سے ان کا کمیشن بندھا ہوتا ہے۔‘‘
آفتاب کی بات سن کر مجھے چار سال پرانا واقعہ یاد آگیا، میری ایک دوست ڈاکٹر زبیدہ شیخ نے مجھے کہا کہ ’’ اگر شوگر کی کوئی تکلیف ہو تو جو نام میں بتا رہی ہوں ان ڈاکٹر کو دکھانا، فیس بھی معقول ہے اور تمہارے گھر سے بھی قریب ہے۔‘‘ بس مجھے پتا نہیں کیا سوجھی کہ میں ایک دن اپنی فائل لے کر ان ڈاکٹر کے پاس چلی گئی، انھوں نے وہ ساری دوائیں بند کر دیں اور بولے ’’آپ انسولین پر آ جائیے، اگر دیر کی تو آپ کا کیس خراب ہو سکتا ہے، میرے ساتھ میری ایک دوست موجود تھیں، میں یہ سن کر بہت پریشان ہو گئی اور ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میری شوگر تو بہت کم رہتی ہے، بعض اوقات مجھے میٹھا کھانا پڑتا ہے۔ نیز یہ کہ مجھے شوگر 2017 میں ہوئی ہے۔ تو وہ بولے، نہیں آپ کی شوگر بہت بڑھ سکتی ہے، آپ سامنے والے میڈیکل اسٹور سے سرنج اور دوائیں لے کر آئیں، میں آپ کو انجکشن لگانے کا طریقہ بتاتا ہوں۔ میں اس قدر گھبرا گئی تھی کہ آناً فاناً دوائیں لے کر ان ڈاکٹر کے پاس آ گئی، انھوں نے انجکشن لگانے کا طریقہ بتا دیا، میں گھر آ گئی۔
دو دن تک میں دوا لیتی رہی، لیکن میرا وجدان کہہ رہا تھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ میری چھٹی حس مجھے خبردار کر رہی تھی، میں نے اپنی انھی دوست سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ گلشن چورنگی پر میری آپی کے شوہر ڈاکٹر ہیں، بہت سینئر ہیں، آپ وہاں چلیں۔ دوسرے دن ہم وہاں گئے، ان ڈاکٹر صاحب سے صرف اتنا کہا کہ ہم روٹین کے چیک اپ کے لیے آئے ہیں، نیز یہ کہ صبح فاسٹنگ کی شوگر 140 سے کم نہیں ہو رہی۔ انھوں نے فائل چیک کی، عمر پوچھی اور یہ بھی کہ مجھے کب سے شوگر ہے؟ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ جو دوائیں لے رہی ہیں وہ لیتی رہیں، صرف ایک دوا کا میں اضافہ کر رہا ہوں۔ آپ کی شوگر خطرناک نہیں ہے، کیونکہ آپ کو بڑی عمر میں شوگر ہوئی ہے۔ ان کی بات سن کر حواس قابو میں آئے۔ پھر میں نے یوں ہی کہا کہ’’ ڈاکٹر صاحب! مجھے انسولین کی تو ضرورت نہیں ہے؟‘‘ تو وہ بولے’’ بالکل نہیں، آپ کا مرض ٹیبلٹ سے ہی ٹھیک ہو جائے گا، بس پرہیز پر توجہ دیجیے۔‘‘
اب سلسلہ وہیں سے جڑتا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ سارے ٹیسٹ کروا کے جب میں اسپتال کے ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو انھوں نے رپورٹیں دیکھیں اور بولے کہ آپ کو دو ٹیسٹ اور کروانے ہوں گے، ایک بلڈ کا اور دوسرا تھائی رائیڈ کا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ، تھائی رائیڈ کا کس لیے؟ تو و ہ بولے، ’’لگے ہاتھوں یہ بھی کروا لیجیے۔‘‘یہ ٹیسٹ بھی بہت مہنگے تھے۔ اگلے دن جب رپورٹس لے کر ڈاکٹر صاحب کے پاس گئی تو وہ انھوں نے ان رپورٹس کو دیکھ کر کہا کہ ’’اب میرا کام ختم، آپ کے گردے بھی کمزور ہیں، آپ Nefphrologist اور Endonerinologist کو دکھائیں۔‘‘ بس جناب! ہم ان دو ڈاکٹروں کی تلاش میں خوار ہوئے، پہلے کڈنی اسپیشلسٹ کے پاس گئے تو انھوں نے پہلا جملہ یہ کہا کہ ’’آپ کو جو دوائیں دی گئی ہیں ان سے آپ کا کیس خراب ہوا ہے۔‘‘ یہ ڈاکٹر جنرل فزیشن بھی ہیں اور گردوں کے امراض کی ماہر بھی۔ انھوں نے شوگر اور بلڈ پریشر کی دوائیں بھی بند کر دیں اور نئی دوائیں لکھ کر دیں۔ دو ٹیسٹ اور لکھ کر دیے۔ پھر میں جب تھائی رائیڈ کے ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو وہ رپورٹ دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئیں، اور بولیں: ’’کس احمق ڈاکٹر نے آپ کو تھائی رائیڈ کا ٹیسٹ لکھ کر دیا؟ کچھ علامات ہوتی ہیں، پھر ان پہ غور کرکے ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔‘‘ اب ان ڈاکٹر صاحبہ نے بھی غذا کی نالی کے ایکسرے لکھ کر دیے جو کافی مہنگے تھے، میرا سارا بجٹ آؤٹ ہو گیا۔
اب سنیے اور کہانی، تقریباً گزشتہ سال زبیدہ شیخ کے گھر بیٹھی تھی، میں نے کہا کہ’’ دیکھو زبیدہ! تمہارے ڈاکٹر صاحب نے مجھے کسی اور دوائی کا مشورہ دیا تھا جب کہ میں اب تک دوائیں پابندی سے کھا رہی ہوں اور میری شوگر بھی کنٹرول ہے۔‘‘ تو وہ ہنس کر بولیں، ’’ارے بھئی! وہ ڈاکٹر صاحب مافیا کے زیر اثر آ گئے تھے اور دھڑا دھڑ مریضوں کو انجکشن لگانے کا مشورہ دے رہے تھے، یہ بات کسی طرح کھل گئی، اب انھوں نے اپنا کلینک بھی تبدیل کر لیا ہے اور ایک اسپتال میں ملازمت کر لی ہے۔ اب وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔‘‘
تو صاحبو! یہ تھی روداد ان لٹیروں کی جنھیں دنیا مسیحا کے نام سے پکارتی ہے۔ مریضوں کو تختہ مشق بنانا انھیں غلط سلط ٹیسٹ کے لیے کہنا، ان پر دواؤں کے تجربے کرنا، کمیشن کھانا، دوا ساز کمپنیوں کے گٹھ جوڑ سے غیر ملکی دورے کرنا، بڑے بڑے قیمتی تحائف لینا یہ سب معمول کی بات ہے۔ بڑی بڑی تگڑی فیسیں لینا اور جواب میں صرف ایک نسخہ لکھ کر تھما دینا، ان لٹیروں کی ملی بھگت لیبارٹریوں سے بھی ہوتی ہے جو باقاعدہ کمیشن کھاتے ہیں۔ آج کے دور میں طب کا مقدس پیشہ جو کبھی انسانیت کی خدمت اور مسیحائی کا دوسرا نام تھا تیزی سے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
ماضی میں ڈاکٹر کو زندگی بچانے والا درجہ دیا جاتا تھا، اب بھی کچھ خوف خدا رکھنے والے ڈاکٹر موجود ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔ اب نجی اسپتالوں نے اسے محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بیماری کے وقت انسان بہت مجبور اور لاچار ہوتا ہے اور اس مجبوری کا فائدہ اسپتال والے اور ڈاکٹر اٹھاتے ہیں۔ لٹیرے ڈاکٹروں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری ٹیسٹ کرواتے ہیں جو بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی مہنگی دوائیں تجویز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یورپ اور امریکا میں ڈاکٹر آج بھی ’’مسیحا‘‘ کے درجے پہ فائز ہیں۔ کینیڈا میں میری بھتیجی رہتی ہے، وہ جب وہاں کی آسانیاں صحت کے بارے میں بتاتی ہے تو لگتا ہے جنت اور جہنم اسی دنیا میں ہیں۔ کینیڈا، یورپ اور امریکا والے جنت میں رہتے ہیں اور ہم جہنم میں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل