Friday, July 10, 2026
 

پنجاب میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہونے لگے

 



پنجاب میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہونے لگے، ماہرین نے ہر گھر میں ری چارج ویل لازمی قرار دینے کی تجویز دیدی۔ پنجاب میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشیں جاری ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال بارشوں سے ملنے والا اربوں گیلن پانی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں زیرزمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کر کے دوبارہ زمین میں جذب کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ نسلوں کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ماہر آبی وسائل انجینئر ڈاکٹر محمد یاسین کے مطابق لاہور میں زیرزمین پانی کی سطح اوسطاً ایک سے ڈیڑھ میٹر سالانہ نیچے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق شہر کی آبادی، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، کنکریٹ کے پھیلاؤ، دریاؤں اور نہروں میں پانی کی کمی اور مسلسل ٹیوب ویلوں کے استعمال کے باعث زیرزمین آبی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کا پانی اگر ری چارج ویلز، ری چارج پٹس، بائیو سویلز اور زیرزمین فلٹریشن سسٹمز کے ذریعے زمین میں واپس پہنچایا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ڈاکٹر محمد یاسین نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی نے عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے ایک رین واٹر ہارویسٹنگ اور ری چارج ویل نظام نصب کیا ہے جہاں عمارتوں کی چھتوں اور کھلے میدانوں سے جمع ہونے والا بارش کا پانی فلٹر میڈیا سے گزار کر زمین میں واپس پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی قدرتی طور پر صاف ہو کر دوبارہ آبی ذخائر کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں قدرتی ری چارج کا عمل تیزی سے کم ہو رہا ہے کیونکہ شہر مسلسل کنکریٹ میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے باعث بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے فوری طور پر نکاسی آب کے نظام میں چلا جاتا ہے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے ڈائریکٹر ماحولیات و کمیونیکیشن عابد لطیف سندھو نے کہا کہ لاہور سمیت کئی شہروں میں زیرزمین پانی صرف مقدار میں ہی کم نہیں ہو رہا بلکہ اس کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل پانی نکالنے سے پہلے سطحی (شیلوایکوافائر) اور بعد ازاں گہرے آبی ذخائر (ڈیپ ایکوافائر) استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ گہرے ذخائر ہزاروں بلکہ بعض صورتوں میں لاکھوں سال پرانا فوسل واٹر رکھتے ہیں، جو ایک مرتبہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آسانی سے بحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی فضلہ، گھریلو سیوریج، زرعی ادویات، بھاری دھاتیں، خصوصاً مرکری، کیڈمیم اور دیگر مضر کیمیکلز زیرزمین پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔ صاف پانی نکالا جا رہا ہے جبکہ آلودہ پانی دوبارہ زمین میں شامل ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ عابد لطیف سندھو نے تجویز دی کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور رہائشی منصوبوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ ویل کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ ہر محلے اور ہر بڑے رہائشی علاقے میں اجتماعی ری چارج ویلز تعمیر کیے جائیں تاکہ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرزمین ذخائر کو دوبارہ بھر سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ گہرے آبی ذخائر سے پانی نکالنے پر سخت پالیسی اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گلیشیئر سے نلکے تک پانی کے استعمال کی واضع پالیسی اپنانا ہوگی کہ کہ زراعت ، انڈسٹری، ڈومسیٹک کے لئے کتناپانی استعمال ہوگا اور اس پر عمل درآمد بھی کرنا ہوگا دوسری جانب واسا لاہور نے بھی زیرزمین پانی کی بحالی کے لیے ری چارج ویلز اور بارشی پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔  واسا لاہور کے مطابق شہر میں اس وقت تین جدید گراؤنڈ واٹر ری چارج ویلز فعال ہیں، جو گلبرگ کے علاقوں لبرٹی چوک، مراتِب علی روڈ اور ایچ بلاک پارک میں قائم کیے گئے ہیں۔ ہر ری چارج ویل روزانہ تقریباًآٹھ ہزار گیلن بارش کے پانی کو فلٹر کر کے دوبارہ زیرِ زمین آبی ذخائر میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت نے منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور میں مزید 15 گراؤنڈ واٹر ری چارج ویلز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ طویل المدتی منصوبے کے تحت شہر بھر میں ایک ہزار ری چارج ویلز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد مون سون کے دوران ضائع ہونے والے بارشی پانی کو محفوظ بنا کر زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنا، گرتی ہوئی واٹر ٹیبل کو بہتر بنانا اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل