Loading
میڈرڈ: اسپین کے جنوبی خودمختار علاقے اندلس میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی، جہاں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام نے اسے اندلس کی حالیہ تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آگ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر صوبہ المیریا کے علاقے لوس گیارڈوس کے قریب بھڑکی۔ تیز ہواؤں نے آگ کو چند ہی گھنٹوں میں قریبی علاقوں تک پھیلا دیا، جس کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق کئی افراد اپنی گاڑیوں میں محفوظ مقام کی جانب جاتے ہوئے آگ کی لپیٹ میں آ گئے، جن کی لاشیں بعد ازاں جلتی ہوئی گاڑیوں سے برآمد کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد لاپتا ہیں اور ان کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اندلس کے علاقائی سربراہ خوانما مورینو نے بتایا کہ کم از کم 19 افراد کے بارے میں تاحال معلومات نہیں مل سکیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
حکام کے مطابق آگ سے کم از کم 6 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک خاتون شدید جھلسنے کے باعث اسپتال منتقل کی گئی، جبکہ ایک اور شخص دھوئیں سے متاثر ہونے کے بعد زیر علاج ہے۔ دیگر زخمیوں کو معمولی جلنے اور سانس کی تکلیف کے باعث موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔
آگ پر قابو پانے کے لیے 300 سے زائد امدادی اہلکار، فائر فائٹرز اور اسپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ کے خصوصی دستے کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ شدید دھوئیں کے باعث علاقے کی دو اہم شاہراہیں بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ کی ممکنہ وجہ بجلی کی ایک ہائی وولٹیج لائن کا گرنا ہو سکتی ہے، تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے امدادی اداروں کو ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاط برتنے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں حالیہ شدید گرمی کی لہروں اور خشک موسم نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل