Loading
دو روز سے جاری کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اب جھڑپ تھم چکی ہے اور سفارتی سطح پر تکنیکی ٹیم کے بالواسطہ مذاکرات شروع ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی جنگ ایران کی ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگی۔
باقر قالیباف نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تو ایران ہمہ جہت دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران امن چاہتا ہے تاہم اگر اس پر دباؤ ڈالا گیا یا معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب بھی دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے مزید کہا کہ صرف وہی ملک امریکا کے ساتھ مؤثر مذاکرات کر سکتا ہے جو جنگ کے لیے بھی ہر وقت تیار ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو سفارتی حل کا ذریعہ سمجھا ہے لیکن یہ عمل دھمکی، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے سائے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا جنگ بندی معاہدے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی امریکا پر ہی ہوگی۔
قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں تاکہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور مزید فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی تو دوسری جانب جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی بھی دی۔
ایرانی چیف مذاکرات کار کے بقول انھوں نے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس سے مذاکرات کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کو امریکا پر اعتماد نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل