Loading
برطانیہ کی سابق وزیر، سابق رکن پارلیمنٹ اور معروف سیاست دان 78 سالہ این وڈیکومب کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیون اینڈ کارنوال پولیس نے بتایا کہ سابق وزیر جنوبی انگلینڈ میں ڈارٹ مور نیشنل پارک کے قریب ہیٹر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید زخمی حالت میں پائی گئیں۔
ترجمان پولیس نے مزید بتایا کہ این وڈیکومب کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
پولیس کے سینئر افسر میٹ لانگمین نے بتایا کہ سابق وزیر کے قتل کے الزام میں 26 سالہ مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس قتل کے پیچھے دہشت گردی یا سیاسی محرکات تھے تاہم ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے۔
این وِڈیکومب کون تھیں؟
این وِڈیکومب 1987 سے 2010 تک برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی رکن رہیں۔ وہ کنزرویٹو پارٹی کی اہم رہنما تھیں اور جیلوں کی وزیر سمیت مختلف حکومتی ذمہ داریاں نبھائیں۔
پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد انھوں نے ٹیلی ویژن کے مقبول ریئلٹی شوزمیں شرکت کر کے بھی خاصی شہرت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ بریگزٹ پارٹی میں شامل ہوئیں اور بعد میں امیگریشن مخالف مؤقف رکھنے والی ریفارم یو کے کی ترجمان بھی رہیں۔
وہ سماجی طور پر قدامت پسند نظریات کی حامل تھیں۔ اسقاط حمل اور ہم جنس پرستوں کے حقوق میں توسیع کی مخالفت کرتی تھیں جبکہ اسرائیل کی کھل کر حمایت کرنے والی برطانوی سیاست دانوں میں شمار ہوتی تھیں۔
سیاست دانوں کی سیکیورٹی پر پھر سوالات
این وِڈیکومب کے قتل کے بعد ایک بار پھر برطانیہ میں سیاست دانوں کی سیکیورٹی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دو حاضر سروس ارکان پارلیمنٹ بھی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
2016 میں لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جو کاکس کو بریگزٹ ریفرنڈم کے دوران ایک دائیں بازو کے انتہا پسند نے گولی مار کر اور چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا تھا جبکہ 2021 میں کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ ایمس کو داعش سے متاثر ایک حملہ آور نے چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل