Friday, July 10, 2026
 

وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، وعدوں اور ذمہ داروں کی پاسداری پر زور

 



وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو میں اسلام آباد مفاہمی یادداشت، وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے ایران اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔ وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک پائیدار بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ اور دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی دیگر اعلیٰ قیادت کی جانب سے علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کی حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔  دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے  نیک تمناؤں اور پرتپاک جذبات کا اظہار بھی کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور علاقائی امن و استحکام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل