Friday, July 10, 2026
 

مجھے قتل کیا گیا تو ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا؛ ٹرمپ کا فوج کو حکم

 



ایران میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی اور بدلہ لینے کے عہد و مطالبات سامنے آئے تھے جس پر امریکی صدر کا ردعمل سامنے آگیا۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کئی برسوں سے مجھے نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ میں کافی عرصے سے ان کی ہٹ لسٹ میں ہوں یہی وہ صورتحال ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو وہ پہلے ہی اعلیٰ حکام اور فوج کو سخت ترین ردعمل دینے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ ایران پر ایسی بمباری کی جائے جو اس نے اپنی تاریخ میں کبھی نہ دیکھی ہو۔ ایران کی جانب سے قتل کیے جانے کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انٹرویو لینے والے سے طنزیہ انداز میں کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں نہ رہا تو آپ مجھے یاد کریں گے۔ اب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان کی وضاحت جاری نہیں کی گئی جبکہ ایرانی حکام کی طرف سے بھی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ 2020 میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا نے ڈرون حملے میں قتل کیا تھا جس کے بعد ایرانی حکام بارہا قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔ تاہم ایران نے امریکی صدور یا دیگر رہنماؤں کے قتل کی کسی عملی منصوبہ بندی کی سرکاری طور پر کبھی تصدیق نہیں کی۔ حال ہی میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے اور ایسے بینرز آویزاں کیے گئے جن میں ٹرمپ کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل